’ہمیں نہیں‘اِنہیں معلوم ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں حکام کو مطلوب جنگجو کمانڈر عبداللہ محسود نے کہا ہے کہ ان کے علاقے میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے۔ نامعلوم مقام سے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عبداللہ محسود نے کہا کہ وہ فوج کی کارروائی کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں اور ان کا مقصد فوج کو شکست دینا نہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ جِن علاقوں میں کارروائی کی جا رہی ہے وہاں غیر ملکی اور ان کی معاونت کرنے والے مقامی لوگ بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ لوگ جو مزاحمت کر رہے ہیں ہتھیار ڈال کر حکومت سے تعاون کیوں نہیں کر رہے۔ عبداللہ محسود کا کہنا تھا کہ حکومت نے احمدزئی وزیر قبیلے سے اس لیے صلح کی ہے کیونکہ ان کا یہ موقف غلط ثابت ہو گیا کہ اس قبیلے کے علاقوں میں غیر ملکی افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محسود قبائل کا بھی اسامہ بِن لادن یا کسی غیر ملکی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ ان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ ان لوگوں کے بارے میں آئی ایس آئی اور ان امریکی اداروں سے پوچھیں جو ہر وقت مختلف لوگوں کے بارے میں معلومات کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مزاحمت کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ کوئی مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہوگا۔ میجر جنرل شوکت سلطان کا موقف تھا کہ ’اگر علاقے میں غیر ملکی نہیں ہیں تو حکومت کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ وہاں جا کر آپریشن کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں لوگوں نے ہتھیار ڈالے ہیں وہاں ترقیاتی پروگرام شروع ہو چکے ہیں اور اگر باقی لوگ بھی ہتھیار ڈال دیں تو وہاں بھی اس طرح کے کام شروع کیے جائیں گے۔ عبداللہ محسود نے کہا کہ ان کی کور کمانڈر سے ملاقات کے بعد جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی اور انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ میجر جنرل سلطان نے کہا ان کی ان سے بات چیت چل رہی تھی لیکن جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا حکومت نے قبائلی علاقے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||