حکومت قبائلی اسلحہ خریدے گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل نے جمعرات کو ایک جرگے میں حکومت کو بھاری اسلحہ فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس موقع پر سرکاری اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اسلحہ خریدنے کی یہ پیشکش تمام قبائلی علاقوں کے لئے ہے۔ اس رضامندی کا اظہار قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع ٹانک شہر میں محسود قبائل کے سینکڑوں عمائدین اور مقامی قبائلی انتظامیہ کے درمیان ایک جرگے میں کیا گیا۔ اس جرگے میں اصولی رضامندی کے علاوہ قبائلیوں نے حکومت کو اپنے چند تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔ اب آئندہ سوموار کو قبائلی اور حکومتی اہلکار بھاری اسلحے کا نرخ اور اسے حوالے کرنے سے متعلق طریقہ کار پر غور کریں گے۔ جرگے سے خطاب میں ملک مسعود احمد، ملک سعیدالرحمان، ڈاکٹر اکبر علی اور دیگر قبائلی نمائندوں نے اپنے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قبائلیوں کو یہ اسلحہ کسی نے تحفے میں نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے اپنے اور ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے خریدا تھا۔ انہوں نےگزشتہ فوجی کارروائیوں کے دوران ضبط کیے گئے اسلحے کے مالکان کو بھی معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقعہ پر اسسٹینٹ پولیٹکل آفیسر خان بخش نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ قبائلیوں سے ان کا روایتی اسلحہ یعنی رائفل یا کلاشنکوف نہیں لیا جائے گا بلکہ صرف میزائل، راکٹ، طیارہ شکن توپیں، مارٹر گنیں اور ٹینک شکن بارودی سرنگیں خریدی جائیں گی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ حکومت نے قبائلیوں سے اسلحہ خریدنے کی پیشکش کی ہو۔ ماضی میں نواز شریف دور میں بھی یہ آفر دی جا چکی ہےلیکن اس وقت اس کے کوئی مثبت اثرات سامنے نہیں آئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||