وزیرستان: القاعدہ ارکان کی تلاش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی سکیورٹی دستوں نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پانچ مقامات پر القاعدہ کے مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر تلاشی لی ہے۔ اس کارروائی میں کوئی غیرملکی تو ہاتھ میں نہیں آیا تاہم دو مقامی افراد کو شک کی بنیاد حراست میں لیا گیا ہے۔ کل رات گئے دو بجے کے قریب شمالی وزیرستان میں میرعلی سے چار کلومیٹر دور ہسوخیل علاقے میں تلاشی کی کارروائی کا آغاز ہوا جو چھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد صبح آٹھ بجے اختتام پزیر ہوا۔ اس دوران سکیورٹی دستوں کو بکتربند گاڑیوں اور خواتین پولیس کی مدد حاصل رہی۔ پانچ مقامات کو محاصرے میں لے کر تلاشی لی گئی لیکن کوئی غیرملکی ہاتھ نہیں آیا۔ البتہ دو مقامی افراد زبیح اللہ اور سجاد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لے لیا گیا۔ پولیٹکل ایجنٹ شمالی وزیرستان کیپٹن (ر) محمد طارق حیات نے بتایا کے یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے ان معلومات کی مزید تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران انہیں مقامی قبائلیوں کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ ادھر حکام نے جمعرات کو بتایا کہ شمالی وزیرستان کے افغانستان سے ملحق سرحد پر واقعے علاقے لوڑا منڈی میں ایک مقامی قبائلی ملک سخی مرجان کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ انہیں ایک گاڑی میں سوار آٹھ نامعلوم حملہ آوروں نے خودکار ہتھیاروں سے ادویات کی ایک دوکان میں گولیاں مار کر ہلاک کیا۔ خیال ہے کہ اس ہلاکت کا سبب ملک سخی مرجان پر سرحد پار امریکیوں سے تعلقات کا شبہ ہوسکتی ہے۔ پاکستانی فوجی حکام کی جانب سے گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خاتمے کے دعوی کے بعد اب تمام نظریں شمالی وزیرستان پر مرکوز نظر آتی ہیں۔ امریکی فوجی دباؤ اور پاکستانی حکام کے اس اعتراف کے بعد کہ کئی عسکریت پسندوں نے شمالی وزیرستان میں پناہ لے رکھی ہے اس علاقے میں کسی بڑی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||