وزیرستانی قبائل کو فوجی انتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکام نے آج شمالی وزیرستان کے قبائل کو تنبیہ کی ہے کہ اگر وہ کسی تازہ فوجی کارروائی سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں علاقے میں موجود القاعدہ کے غیرملکی عناصر کو وہاں سے نکالنا ہوگا۔ یہ تنبیہ پشاور میں آج قبائلی علاقے میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کے نگران اعلی ترین اہلکار کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے شمالی وزیرستان کے ایک تیس رکنی وفد سے ملاقات میں دی۔ وفد قبائلی علما اور دیگر عمائدین پر مشتمل تھا۔ کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ غیرملکی عسکریت پسند مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان غیرملکیوں کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن انہیں نظر انداز ہرگز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جنرل صفدر حسین نے قبائل عمائدین کو ان کی ذمہ داری اور حکومت کے ساتھ وعدے یاد دلائے۔ ان کے بقول شمالی وزیرستان کے تمام قبائل یا ان کی ذیلی شاخوں نے حکومت سے غیرملکی عناصر کو پناہ نہ دینے کے معاہدے کئے ہوئے ہیں لیکن خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق یہ ابھی علاقے میں ہی ہیں۔ انہوں نے قبائلیوں پر زور دیا کہ وہ ان عناصر کے خلاف خود کارروائی کرتے ہوئے انہیں علاقے سے نکال دیں ورنہ ان حکومت کے پاس فوجی طاقت کے استعمال کے بغیر کوئی دوسرا چارہ نہیں ہوگا۔ گزشتہ ہفتے شمالی وزیرستان میں ہی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں حکام کے مطابق دو غیرملکی ہلاک جبکہ گیارہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کئی اعلی سرکاری اہلکار ماضی قریب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ جنوب کے بعد اب شمالی وزیرستان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیرملکی عسکریت پسند پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||