BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 September, 2005, 22:30 GMT 03:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: میجر سمیت گیارہ ہلاک
سکیورٹی اہلکار
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں فوجیوں کو کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہے۔
پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان میں ایک سرچ آپریشن کے دوران شدید مزاحمت کے نتیجے میں ایک میجر سمیت گیارہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ دو دن سے جاری اس سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی ایجنسیوں کے کل گیارہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ علاقے میں شدید لڑائی ہو رہی اور فوج کو شر پسندوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ شر پسندوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور آپریشن شدت پسندوں کے گرفتار ہونے یا مارے جانے تک جاری رہے گا۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ القاعدہ کے کسی بڑے رہنماء کی گرفتاری کے امکانات نہیں ہیں ۔

پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو اطلاع ملی تھی کہ خئی کلے کے علاقے میں اسلحہ موجود ہے۔ جب شر پسندوں کو ڈھونڈنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تو انہوں نے مزاحمت شروع کر دی۔

آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ دونوں طرف سے ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ چھ کل شہید ہوئے جبکہ پانچ آج (جمعہ کو) شہید ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کو ہلاک ہونے والوں میں فوج کے ایک میجر اور تین سپاہی بھی شامل ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مزاحمت کاروں کی طرف سے کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کی بیس سے پچیس کے درمیان ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزاحمت کاروں کو کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکر پر کہا گیا تھا کہ اپنے ہتھیار ڈال دیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پاکستان حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے مذہبی رہنماء مولانا صادق نور فوج کے نشانہ پر ہیں جو ان کے خیال میں شر پسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

پاکستان فوج کے ایک اور اہلکار برگیڈیئر شاہ جہان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ فوجی آپریشن ان اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا کہ علاقے میں شر پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

آخری خبریں آنے تک لڑائی جاری تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد