القاعدہ نیٹ ورک توڑنےکا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج نے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انہیں عملی جامہ پہنانے والے نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پشاور میں صحافیوں کو شمالی وزیرستان میں تین روز کی فوجی کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کور کمانڈر پشاور لیفٹنٹ جنرل صفدر حسین کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں اکیس افراد کو حراست میں جبکہ ریکارڈ تعداد میں اسلحہ بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں ایک سرکاری اہلکار بھی شامل ہے۔ کور کمانڈر نے شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا اور اب اطلاعات ہیں کہ وہاں کے پولیٹکل ایجنٹ طارق حیات کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین کے مطابق تین روز قبل شمالی وزیرستان میں جانی خیل کے علاقے سے شروع ہونے والی فوجی کارروائی اب تک کی سب سے بڑی کارروائی تھی جس میں تین ہزار جوانوں نے حصہ لیا اور یہ
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں میران شاہ کا ایک پولیٹکل محرر بھی شامل ہے۔ اس اہلکار پر عسکریت پسندوں کو معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے تاہم کور کمانڈر نےاس شخص کا نام نہیں بتایا۔ دیگر گرفتار افراد میں میران شاہ سے جمعیت علمائے اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولانا نیک زمان کے ایک قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ اس سے مولانا نیک زمان کے براہ راست تو نہیں لیکن بلاواسطہ ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ثبوت ملا تو وہ ان کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اس الزام کے سلسلے میں مولانا نیک زمان کا ردعمل جانے کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا۔ فوج کو اب مولانا صادق نور نامی ایک شخص کی بھی تلاش ہے۔ لیفٹنٹ جنرل صفدر حسین کا کہنا تھا کہ وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کوئی قبائلی رسم و رواج کے مطابق چلے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا بیٹا یا بھتیجا کیا کر رہا ہے۔
کور کمانڈر نے جو خود بھی میران شاہ میں اس کارروائی کی نگرانی کرتے رہے قبائلی علماء اور عمائدین سے تعاون کی دوبارہ اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ان کے سامنے مولانا صادق نور اور مولانا نیک زمان کی مثالیں موجود ہیں۔ حکومت کو مطلوب قبائلی جنگجو عبداللہ محسود کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ان کا کہنا تھا کہ عبداللہ محسود اب بیت اللہ محسود کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف وقت کی بات ہے اور وہ اسے کیفر کردار تک ضرور پہنچائیں گے۔ فوجی حکام کے مطابق مدرسہ حقانیہ اور کئی دیگر مقامات پر اس کارروائی کے دوران انہیں ریکارڈ تعداد میں جدید اور بھاری اسلحہ بھی ملا ہے۔ اس سازوسامان میں بناپائلٹ ریمورٹ کنٹرول سے چلنے والا چھوٹا طیارہ بھی شامل ہے جس پر کیمرہ نصب تھا۔ اس کے علاوہ جدید ترین مواصلاتی نظام بھی برآمد کیا گیا ہے۔ کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ میر علی کے شمال میں القاعدہ کے ایک مواصلاتی مرکز کو بھی ختم کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے سرحد پار بات ہوتی تھی۔
افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کور کمانڈر نے کہا وہ مزید پانچ ہزار فوجی سرحد سیل کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں جس سے قبائلی علاقوں میں فوجیوں کی تعداد اسی ہزار تک پہنچ جائے گی۔ ان کا اصرار تھا کہ افغان سرحد اب مکمل طور پر سیل ہوچکی ہے۔ ادھر میران شاہ سے اطلاعات ہیں کہ اپنے ایک ساتھی کی گرفتاری کے خلاف بطور احتجاج پولیٹکل انتظامیہ کے کلیریکل سٹاف نے آج کام بند رکھا۔ وہ اپنے ساتھی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||