وزیرستان: ایک پیچیدہ اور گنجلک مسئلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا قبائلی علاقہ وزیرستان بظاہر ایک مرتبہ پھر لاقانونیت کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ عام قبائلی کو نہ تو وہاں حکومت دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی قانون۔ ہاں تاہم یہ علاقہ ایک مرتبہ پھر جنگل کے قانون کے نرغے میں ضرور ہے۔ اسے حکومت کی رضامندی کہیں یا نظراندازی لیکن اس پالیسی کی وجہ سے مقامی طالبان تحریک شمالی وزیرستان میں سر اٹھا رہی ہے۔ اس تحریک نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے خود مبینہ بھتہ خوروں کے خلاف کارروائی کی اور بڑی تعداد میں قتل و قتال ہوا۔ یہ تحریک محض شمالی وزیرستان تک محدود نہیں بلکہ جنوب میں بھی اس نے جڑیں مضبوط کی ہیں اور داڑھی منڈوانے اور موسیقی پر پابندی لگا دی ہے۔ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان مقامی طالبان نے بڑی تعداد میں بھرتی کر بھی لی ہے۔ تاہم افغانستان میں لڑنے کے لئے بھی وانا سمیت مختلف مقامات پر بھرتی دفتر کھول رکھے ہیں۔
افغانستان میں حملوں کے لئے یہی طالبان استعمال ہو رہے ہیں اور وہاں امریکی فوجیوں پر حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کو وزیرستان لایا جا رہا ہے۔ حکام ان اطلاعات کو تاہم غلط قرار دے کر جان چھڑا رہے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ جب تک ہمسایہ ملک افغانستان میں حالات درست نہیں ہوں گے یہاں کیسے بہتر ہوسکتے ہیں۔ اس بیان کو اگر تجزیے کی نظر سے دیکھیں تو اس میں فوج اپنی ہار تسلیم کر رہی ہے یعنی وہ اپنے علاقے میں اس وقت تک بہتری نہیں لاسکتی جب تک افغانستان میں حالات ٹھیک نہ ہوں۔ افغانستان میں مکمل اور پائیدار امن اگر کئی دہائیوں میں نہیں آئے گا تو یہاں بھی کیا یہی حال ہوگا؟ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اپنے علاقے کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا۔ اور یہی ہو رہا ہے۔ فوج عسکریت پسندوں کے نشانےپر ہے اور سول انتظامیہ بے بس۔ اب تک جرگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بظاہر ناکام لگتا ہے۔
لیکن اصل خوف اور خدشات یہ ہیں کہ آیا یہ وزیرستان میں کھیلے جانے والے خطرناک کھیل کا کوئی نیا باب ہے؟ اس سنگلاخ پہاڑی علاقے میں گزشتہ ایک برس میں حالات نے بہتری کی بجائے ابتری کی جانب زیادہ حرکت کی ہے۔ سال دو ہزار پانچ کے آغاز میں جنوبی وزیرستان میں حکومت کے مختلف مقامی قبائل سے امن معاہدوں کے پیش نظر حالات قدرے معمول پر آگئے تھے۔ فروری میں سراروغہ کے مقام پر محسود علاقوں میں عسکریت پسندوں کے سربراہ بیت اللہ محسود کے ساتھ معاہدہ انگریزی محاورے کے بقول ’آئسینگ آن دا کیک‘ عبداللہ محسود بھی گزشتہ برس دو چینی انجینئروں کے اغوا کے بڑے واقعے کے بعد اب قدرے خاموش تھے۔ اس دوران ان کے فوج کے ساتھ تصادم میں زخمی ہونے اور بعد میں موت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں لیکن اس ایک ٹانگ اور لمبے بالوں والے قبائلی جنگجو نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر رابطے میں ان خبروں کو من گھڑت قرار دیا اور جلد دوبارہ متحرک ہونے کی پیشین گوئی کی۔
تاہم یہ پیشینگوئی اس سال کے آخر تک غلط ثابت ہوئی۔ اگرچہ مختلف مقامات پر اب بھی فوجیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن عبداللہ کا کہیں نام و نشاں نہیں۔ کئی لوگوں کے خیال میں وہ کسی خفیہ معاہدے کے تحت ’چپ‘ ہیں۔ وزیرستان میں کھیلے جانے والا کھیل کوئی آج کا نہیں ہے۔ اس کی جڑیں بہت پرانی ہیں۔ موجودہ گھمبیر صورتحال کا آغاز گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد قبائلی علاقے میں پاکستان فوج کے ستر ہزار سے زائد فوجیوں کی آمد سے نہیں بلکہ اس سے بھی کئی برس پہلے ہوا۔ کئی مقامی قبائل کا اب کہنا ہے کہ اصل میں روسی افواج کے خلاف مزاحمت اصل میں ہوئی اسی علاقے سے ہے۔ روسی فوج کے خلاف لڑائی کے لئے اسلحہ اور مجاہدین یہیں سے سینکڑوں کی تعداد میں ٹرکوں میں افغانستان جاتے رہے۔ اس جنوب میں قبائلی علاقے کی آخری حد یا ’پچھواڑے‘ کا اس وقت کی پاکستانی اور امریکی حکومتوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ اب بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بوتل سے نکلا ہوا جن پاکستان حکومت کی مسلسل کوشش کے باوجود واپس بوتل میں نہیں جا رہا۔ امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ کوئی قبائلی سردار محفوظ نہیں، صحافی محفوظ نہیں۔
قبائلی سردار ملک فرید اللہ اور ملک میرزاعالم جیسے سرکردہ حکومت نواز سردار قتل ہوئے۔ یہ حملے صرف حکومت یا فوج کا ساتھ دینے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ سب سے خطرناک بات صحافیوں کو بھی نشانہ بنانا ہے۔ اس سال فروری میں میر نواب اور اللہ نور وزیر کو وانا میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ یہ اس علاقے میں پہلا صحافتی نقصان تھا جس نے وہاں کے صحافیوں کے لئے بھی حالات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ وہاں ایک انجانا سا خوف پایا جاتا ہے۔ نجانے کون کس وقت کسی بات پر اگلا ہدف بن جائے۔ ان ہلاکتوں کو مقامی قبائلی ’ٹارگٹ کلنگز’ کا نام دیتے ہیں تاہم حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کا ایک ہی ’ٹھنڈا سا‘ جواب کہ یہ سب ہلاکتیں ٹارگٹ کلنگز نہیں بلکہ کئی کے قبائلی پس منظر بھی ہوسکتے ہیں۔ ان اہم شخصیات کی ہلاکتوں پر سے پردہ آج تک نہیں اٹھایا جاسکا ہے۔ کوئی کسی کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کرے۔ پاکستان میں وزیراعظم لیاقت علی خان سے لے کر آج تک کتنی اہم شخصیات قتل ہوئیں ان کے قاتلوں کا کچھ معلوم نہ ہوسکا تو شاید یہ قبائلی کوئی اتنے اہم نہ ہوں۔
بعض مبصرین وزیرستان کے حالیہ حالات و واقعات کا افغانستان میں سن انیس سو چھیانوے میں قندھار سے اٹھنی والی طالبان تحریک کے آغاز سے مماثلت ڈھونڈ رہے ہیں۔ طالبان کا آغاز بھی کسی حکومت انتظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے شروع ہوئی اور وزیرستان میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ عام آدمی تو عام سیکورٹی دستوں کے اہلکار دن دہاڑے اٹھائے جا رہے ہیں، انہیں قتل کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت اور فوج بظاہر بے بس ہیں۔ کہتے ہیں فوجی اپنے ساتھی کو مرنے کے بعد بھی نہیں چھوڑتے۔ ان کا یہ فرض ہوتا ہے کہ اس کی لاش واپس لائیں۔ یہاں پہلے سروکئی اور اب وانا سے فوجی اغوا ہوتے ہیں لیکن ان کی برآمدگی کے لئے نہ کوئی آپریشن ہوتا ہے نہ کوئی کارروائی۔ پہلے سات فوجی اغوا ہونے کے بعد بے رحمی سے ہلاک ہوئے اب چار میں سے دو کا یہی حشر ہوا ہے۔ بقیہ دو اغوا شدہ اہلکار کہاں ہیں معلوم نہیں۔ عام شکایت ہے کہ حکام ان کی بازیابی کے لیے انتظار کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ قبائلی علاقوں کو غیرملکیوں سے پاک کرنے کی کوشش کے سلسلے میں حکومت نے تمام افغان پناہ گزین کیمپ بھی بند کر دیے ہیں۔ باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں کے علاوہ وزیرستان میں بھی تمام کیمپ اس سال یکم ستمبر تک بند کر دیے گئے۔ تاہم حکومت کے دعوی کے مطابق ابو حمزہ ربیعہ جیسے غیرملکی آج بھی وہاں موجود ہیں۔ ابو حمزہ شمالی وزیرستان میں میرعلی کے قریب ایک غیر واضح دھماکے میں ہلاک ہوا۔
ایک مقامی صحافی حیات اللہ نے وہاں سے ملنے والے شواہد کے ذریعے اسے فضائی حملہ قرار دیا جس کی پاداش میں وہ چند روز بعد اٹھا لیا گیا اور تاحال اس کے بارے میں علم نہیں۔ عموما اس قسم کے ’اغوا‘ خفیہ ایجنسیاں ہی کرتی ہیں جو ایسے صحافیوں کو ایک طویل مدت تک ’مہمان‘ بنا کر چھوڑ دیتی ہیں۔ اگر کسی نے رقم یا کسی اور مقصد کے لئے اغوا کیا ہوتا تو ایک ہفتہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے کوئی اطلاع آچکی ہوتی۔ لیکن ابھی تک خاموشی ہے۔ صحافیوں کو نشانہ بنانے کا واحد مقصد علاقے کی صورتحال سے ملک کے دیگر حصوں اور دنیا کو بےخبر رکھنا ہے۔ وہاں کون کیا کھچڑی پکا رہا ہے یہ کسی کو معلوم نہ ہوسکے۔ علاقے سے رپورٹنگ پہلے دن سے مشکل تھی لیکن اب اسے ناممکن بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جنوب کے بعد حکومت نے اب شمال میں قبیلوں کے ساتھ امن کے افرادی سطح پر معاہدے کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ قبائلی علاقوں کے سیکورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے یہ معاہدے مختلف ہیں کیونکہ یہ امن معاہدے نہیں بلکہ مطلوب اور مشکوک افراد کی جانب سے پرامن رہنے کے وعدے ہیں۔ وہ ان معاہدوں کو جنوبی وزیرستان کے معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ سخت مانتے ہیں۔ ان معاہدوں یا وعدوں سے عارضی امن تو یقیناً آیا لیکن پائیدار نہیں۔ حالات کے مخالف ہونے پر کئی مقامات میں ان قبائل کے علاقوں میں فوجی ٹھکانوں پر دوبارہ حملے ہوئے ہیں۔ شکئی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وزیرستان میں کھیلا جانے والا کھیل اتنا پیچیدہ اور گنجلک ہے کہ اسے سمجھنا ہر ایک کے لیے مشکل ہے۔ اس علاقے کو اب کس مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے معلوم نہیں۔ لیکن گزشتہ برس نے اتنا واضح ضرور کر دیا کہ یہاں کھیلا جانے والا کھیل ابھی اختتام سے کافی دور ہے۔ |
اسی بارے میں عسکریت پسندوں سے معاہدہ 28 November, 2005 | پاکستان ’وزیرستان میں آپریشن بند کریں‘10 October, 2005 | پاکستان القاعدہ نیٹ ورک توڑنےکا دعویٰ13 September, 2005 | پاکستان وزیرستان میں بڑا فوجی آپریشن17 July, 2005 | پاکستان جنوبی وزیرستان القاعدہ سے پاک28 May, 2005 | پاکستان وزیرستان: فائرنگ سے صحافی زخمی14 May, 2005 | پاکستان جنگجوؤں کے ساتھ امن معاہدہ07 February, 2005 | پاکستان فوج کی قبائلیوں سے ڈیل12 January, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||