فوج کی قبائلیوں سے ڈیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکام نے جنوبی وزیرستان میں شکئی قبائلی سے مدد طلب کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے بدلے ان کے زیر حراست تمام افراد عید سے قبل رہا کر دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ یقین دہانی کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے بدھ کو پشاور میں شکئی کے اسی رکنی جرگے سے ملاقات میں کرائی ہے۔ سابق سینیٹر فریداللہ کی سربراہی میں اس جرگے نے کور کمانڈر سے ان افراد کی معافی کی اپیل کی جنہوں نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں جرگے نے ان افراد کی ضمانت دینے کا وعدہ کیا۔ ان میں دو انتہائی مطلوب افراد عیدا خان اور داوڑ خان بھی شامل ہیں جن پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام تھا۔ دونوں اس وقت جیل میں ہیں۔ شکئی ایک وقت میں القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اس موقعہ پر کور کمانڈر نے علاقے میں ایک آرمی پبلک سکول کھولنے کا بھی اعلان کیا۔ قبائلیوں نے اس موقع پر دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود حکومت کے ساتھ امن معاہدہ طے کیا اور اس پر اب بھی کاربند ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||