’وزیرستان میں آپریشن بند کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبے سرحد کی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرستان کے علاقے میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر بند کرکے فوج کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے تعینات کیا جائے۔ وزیرستان میں فوجی آپریشن بند کر کے فوج کو زلزلے سے مثاثرہ علاقوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اجلاس میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں تاخیر کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی اسمبلی میں شدید تنقید کی گئی۔ صوبائی اسمبلی میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے ارکان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کچھ نہیں کیا جا رہا اور ہزاروں افراد ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
صوبائی اسمبلی کا اجلاس متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے بعد ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ مسلم لیگ نواز کے رکن انور کمال مروت نے کہا کہ پانچ دن گزر جانے کا باوجود ہزاروں کی تعداد لوگ اب بھی عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثریں کو خوراک، کمبلوں اور ٹینٹوں کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی امداد لوگوں تک نہیں پہنچ سکی اور بہت سے دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں اور وزیر اعظم اور کور کمانڈرز صرف فضائی جائزے لینے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ مروت نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جس کے لیے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنا ساتھ دیا ہے مشکل کے اس مرحلے پر پاکستان کو صرف ایک لاکھ ڈالر مہیا کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||