BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہ ہمالیہ کی تباہ کن ’فالٹ لائن‘
زلزلے
اس خطےمیں زیادہ شدید زلزلے آنے کا خدشہ ہے
جنوب مشرقی ایشیاء میں بہت عرصے سے تباہ کن زلزلے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا اور ماہرین کے مطابق اس خطے میں مزید زلزلے آنے کا اندیشہ ہے۔

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا جنوبی حصہ گزشتہ صدیوں میں زلزلوں کی زد میں رہا ہے لیکن ان زلزلوں سے ہندوستان کے شمال کی طرف کھسکنے کا پتہ نہیں چل سکا۔

پاکستان میں آنے والے زلزلوں کی وجہ اس خطے کی شمال کی طرف جغرافیائی حرکت ہے جس کی رفتار پانچ سینٹی میٹر سالانہ اور ایک ملی میٹر فی ہفتہ ہے۔

زلزلے اس وقت آتے ہیں جب زیرِ زمین ’فالٹ لائنز‘ پر دباؤ بڑھتا ہے اور دفعتاً توانائی زمین کی سطح سے باہر نکلتی ہے۔

المیہ یہ ہے جب یہ دباؤ بہت عرصے تک قائم رہتا ہے تو اس میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پھر یہ زیادہ شدید زلزلے آنے کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان اور گردو نواح میں آنے والے زلزلہ نے ماہرین کے خدشے کو سچ ثابت کر دیا ہے لیکن انہیں خدشہ تھا کہ اس کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ چھ سے زیادہ ہوگی۔

بھارت کے شہر گجرات میں سنہ دو ہزار ایک میں آنے والا زلزلہ بھی اتنا ہی شدید تھا اور اس میں چودہ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس سے دس گنا شدید زلزلے آسکتے ہیں اور دریائے گنگا کے میدانی علاقوں دس لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ سائنسدان جس چیز کی پیشن گوئی نہیں کرسکتے وہ اس زلزلے کا ممکنہ وقت ہے اور اس وجہ سے ان زلزلوں کے خطرے سے آگاہ کرنا ان کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ایک اندازہ کے مطابق کشمیر میں آنے والے زلزلے سے تیس سے چالیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت سات عشاریہ چھ ریکارڈ کی گئی۔ دنیا کےدوسرے حصوں میں اس شدت کے آنے والے زلزلوں سے کہیں کم جانی نقصان ہوا ہے۔

اسلام آباد میں ایک رہائشی عمارت کے ملبے سے ایک بات ثابت ہوتی ہے اور وہ زلزلوں کے ماہرین کا یہ دعوی ہے کہ زلزلے ہلاکتوں کا باعث نہیں بنتے بلکہ جانی نقصان عمارتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ ممکن ہے کہ زلزلے سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے عمارتوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ صرف اس میں مسئلہ عمارتوں کی تعمیراتی مالیت کا ہے جو اتنی زیادہ بھی نہیں۔ زلزلوں سے محفوظ عمارتیں بنانا کوئی بہت زیادہ مہنگا کام نہیں ہے۔

ذاتی گھر بنانے والوں کے لیے یہ مہنگا ہو گا لیکن سرکاری عمارتوں، سکول کالج اور دیگر عوامی عمارتوں کو زلزلوں سے محفوظ بنانا کوئی بہت مہنگا کام نہیں۔

66رپورٹروں نے کیا دیکھا
زلزلے سے متاثرہ علاقے کا تازہ ترین حال
66بالاکوٹ سے رپورٹ
ایک المیہ، جب میں نے صحافت چھوڑ دی۔۔۔۔
66زلزلہ اور عالمی میڈیا
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور پاکستان میں زلزلہ
66تصویروں میں
مظفرآباد میں زلزلے سے تباہی اور ہلاکتیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد