کوہ ہمالیہ کی تباہ کن ’فالٹ لائن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوب مشرقی ایشیاء میں بہت عرصے سے تباہ کن زلزلے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا اور ماہرین کے مطابق اس خطے میں مزید زلزلے آنے کا اندیشہ ہے۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا جنوبی حصہ گزشتہ صدیوں میں زلزلوں کی زد میں رہا ہے لیکن ان زلزلوں سے ہندوستان کے شمال کی طرف کھسکنے کا پتہ نہیں چل سکا۔ پاکستان میں آنے والے زلزلوں کی وجہ اس خطے کی شمال کی طرف جغرافیائی حرکت ہے جس کی رفتار پانچ سینٹی میٹر سالانہ اور ایک ملی میٹر فی ہفتہ ہے۔ زلزلے اس وقت آتے ہیں جب زیرِ زمین ’فالٹ لائنز‘ پر دباؤ بڑھتا ہے اور دفعتاً توانائی زمین کی سطح سے باہر نکلتی ہے۔ المیہ یہ ہے جب یہ دباؤ بہت عرصے تک قائم رہتا ہے تو اس میں اضافہ ہوجاتا ہے اور پھر یہ زیادہ شدید زلزلے آنے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان اور گردو نواح میں آنے والے زلزلہ نے ماہرین کے خدشے کو سچ ثابت کر دیا ہے لیکن انہیں خدشہ تھا کہ اس کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ چھ سے زیادہ ہوگی۔ بھارت کے شہر گجرات میں سنہ دو ہزار ایک میں آنے والا زلزلہ بھی اتنا ہی شدید تھا اور اس میں چودہ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس سے دس گنا شدید زلزلے آسکتے ہیں اور دریائے گنگا کے میدانی علاقوں دس لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سائنسدان جس چیز کی پیشن گوئی نہیں کرسکتے وہ اس زلزلے کا ممکنہ وقت ہے اور اس وجہ سے ان زلزلوں کے خطرے سے آگاہ کرنا ان کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق کشمیر میں آنے والے زلزلے سے تیس سے چالیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت سات عشاریہ چھ ریکارڈ کی گئی۔ دنیا کےدوسرے حصوں میں اس شدت کے آنے والے زلزلوں سے کہیں کم جانی نقصان ہوا ہے۔ اسلام آباد میں ایک رہائشی عمارت کے ملبے سے ایک بات ثابت ہوتی ہے اور وہ زلزلوں کے ماہرین کا یہ دعوی ہے کہ زلزلے ہلاکتوں کا باعث نہیں بنتے بلکہ جانی نقصان عمارتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ زلزلے سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے عمارتوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ صرف اس میں مسئلہ عمارتوں کی تعمیراتی مالیت کا ہے جو اتنی زیادہ بھی نہیں۔ زلزلوں سے محفوظ عمارتیں بنانا کوئی بہت زیادہ مہنگا کام نہیں ہے۔ ذاتی گھر بنانے والوں کے لیے یہ مہنگا ہو گا لیکن سرکاری عمارتوں، سکول کالج اور دیگر عوامی عمارتوں کو زلزلوں سے محفوظ بنانا کوئی بہت مہنگا کام نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||