فوجیوں کی ہلاکت، مہلت ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے مقامی قبائل کو آٹھ فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث افراد فوج کے حوالے کرنے کی چوبیس گھنٹے کی مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق قبائلی عمائدین حکومت سے ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہفتے کے روز تشدد کے مختلف واقعات میں آٹھ فوجیوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وزیرستان کے علاقے سے ہفتے کے روز کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد کسی نئے پرتشدد واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم کئی مقامات پر کشیدگی ضرور پائی جاتی ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائیوں کے نگران میجر جنرل اکرم ساہی نے صدر مقام میران شاہ میں ایک ہنگامی جرگے میں مقامی قبائل کو میر علی کے قریب نیم فوجی ملیشیا کی چوکی پر حملے میں ملوث افراد کو حوالے کرنے کے لیے چوبیس گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو آج ختم ہو رہی ہے۔ تاہم ابھی واضع نہیں کہ مہلت کے خاتمے پر فوج کیا قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ علاقے سے اطلاعات ہیں کہ مقامی قبائلی عمائدین حکومت سے مزید وقت کا تقاضہ کر رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکی۔ میر علی کے قریب خسوخیل کا علاقہ سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں ہے۔ اس علاقے میں ایک چوکی پر حملے میں فرنٹئر کور کے آٹھ جوان ہلاک جبکہ نو لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان لاپتہ فوجیوں میں سے تین تو حکام کے مطابق واپس آگئے تھے لیکن باقی چھ کے بارے میں ابھی تک واضع نہیں کہ ان کا کیا ہوا۔ ایک اور واقعہ جس کے بارے میں حکومت ابھی تک کسی واضع جواب کے ساتھ سامنے نہیں آئی ہے وہ ہے سرحدی گاؤں سیدگئی میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے سرحد پار کرکے اس گاؤں میں کارروائی کی جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تاہم چوبیس گھنٹے سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود پاکستانی حکام اس بارے میں کسی واضع بیان کے ساتھ سامنے نہیں آئے ہیں کہ یہ کارروائی آخر کس نے کی تھی۔ پاکستانی فوجی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں حالات کی بہتری تک قبائلی علاقوں میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||