’فوجیوں نے زبردستی قبضہ کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے درپہ خیل داوڑ قبیلے نے حکومت سے تیس ہزار کنال متنازعہ اراضی کے حتمی فیصلے تک اس کے گرد چار دیواری کی تعمیر کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ قبیلے کے عمائدین نے آج پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب ڈانڈے پلین کی تیس ہزار کنال اراضی نیم فوجی ملیشیا اور مقامی درپہ خیل داوڑ قوم کے درمیان وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہے۔ قبیلے کا کہنا ہے کہ نیم فوجی ٹوچی سکاوٹس کے اہلکاروں نے اس قیمتی اراضی پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اور قانونی اور جمہوری کوششوں کے باوجود انہیں واپس نہیں کی جا رہی ہے۔ قوم درپہ خیل داوڑ نے چھ ماہ قبل بھی ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے اس تنازعہ کے حل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کروائی تھی لیکن ہوا کچھ نہیں۔ بات وہیں کی وہیں رکی ہے تاہم اس وقت اراضی کے گرد جو دیوار تعمیر کی جا رہی تھی اسے روک دیا گیا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر قبیلہ کا کہنا ہے کہ تنازعہ کے تصفیے کے بغیر ہی دوبارہ دیوار کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔ قبیلے کے عمائدین نے آج پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر حکام کو یاد دلایا کہ اس اراضی کے گرد دیوار کی تعمیر غیرقانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ درپہ خیل اصلاحی کمیٹی کے سربراہ حاجی پشم دین کا کہنا تھا۔ ’ہمیں مثبت رویے کے باوجود دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ یہ تعمیر انصاف کے تقاضوں اور پشتون روایات کے منافی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور کچھ نہیں چاہتے صرف اور صرف اپنا حق، اپنی اراضی چاہتے ہیں۔’جس قسم کے حالات اس وقت شمالی وزیرستان میں ہیں ہم حکومت کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اسے مزید خراب ہونے سے بچائے‘۔ تنازعہ کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے حاجی پشم دین نے کہا کہ انیس سو ایک میں ان کے آباؤ اجداد نے آٹھ سو کنال اراضی برطانوی حکام کو ایک ہزار روپے سالانہ کے کرائے پر دی تھی جس پر انہوں نے رہائشی مکانات اور دیگر تعمیرات کیں۔ قبائلیوں کے بقول انگریز یہ کرایہ باقاعدگی سے ادا کرتے رہے لیکن ان کے چلے جانے کے بعد معاہدہ ختم ہوجانے کے باوجود فرنٹیر کور یہ اراضی بغیر کسی ادائیگی کے استعمال کرتی رہی بلکہ اس نے اس سے ملحق تیس ہزار کنال زمین پر مزید قبضہ کر لیا ہے۔ اخباری کانفرنس میں بات کرتے ہوئے حاجی پشم دین نے بتایا کہ یہ اراضی اسلام آباد کی زمین سے زیادہ قیمتی ہے کیونکہ اس میں سے افغانستان سے سڑک لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ تجارتی اراضی ہے‘۔ قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس قضیے کے حل کے لیے حکام سے کئی ملاقاتیں کیں جو سب بے نتیجہ رہیں۔ انہوں نے صدر، وزیر اعظم، گورنر سرحد اور کور کمانڈر پشاور سے یہ تعمیر فوری طور پر رکوانے کی اپیل کی ہے۔ اس قبیلے کے دعوی پر سرکاری حکام کا ردعمل حاصل نہیں ہوسکا۔ ادھر شمالی وزیرستان ہی کے میر علی علاقے سے اطلاعات ہیں کہ ہفتے کی رات نامعلوم افراد نے فرنٹیر کور کی ایک چوکی پر کئی راکٹ داغے لیکن ان کے کھلے میدان میں گرنے سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ | اسی بارے میں قبائلی علاقوں میں طالبان سرگرم09 December, 2005 | پاکستان وزیرستان: ’بھتہ خوروں‘ کے سر قلم09 December, 2005 | پاکستان وانا سے چار فوجی جوان اغواء07 December, 2005 | پاکستان صحافی کی گمشدگی کامعمہ11 December, 2005 | پاکستان بی بی سی صحافی کےگھرکےباہردھماکہ 16 December, 2005 | پاکستان پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ17 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||