BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 December, 2005, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: ’بھتہ خوروں‘ کے سر قلم
شمالی وزیرستان
قبائلی طالبان کی طرف سے قتل کیے جانے والوں کے مردہ جسم دیکھ رہے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نے دو مبینہ بھتہ خوروں کے سر قلم کر کے ان کی لاشیں کھمبوں سے لٹکا دیں۔

اطلاعات کے مطابق میراں شاہ میں مقامی طالبان کا ایک گروہ مبینہ بھتہ خوروں کے ایک گروہ کو ڈھونڈ رہا تھا جس کے ساتھ ایک روز پہلے جھڑپ میں کم سے کم پندرہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ستر ہزار فوج علاقے میں موجود ہے اور حکومت مکمل کنٹرول میں ہے ۔

وزیر ستان سے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا ہے کہ جمعہ کو میراں شاہ سول ہسپتال کے سامنے بھتہ خوروں کی لاشوں کو بجلی کے کھمبوں سے لٹکا دیا گیا۔ دو دن پہلے بھی شمالی وزیرستان کے قبائلیوں نے پانچ مبینہ بھتہ خوروں کی لاشیں بجلی کے کھمبوں کے ساتھ لٹکا دی تھیں ۔

نامہ نگاروں کے مطابق بھتہ خوروں کا تعلق افغانستان کے مشہور بھتہ خور حکیم خان کے گروہ سے تھا اور وہ تازک قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مقامی طالبان نے اعلان کیا ہے کہ اگر کسی شخص حکیم خان گروپ کے شخص کو پناہ دی تو اس کا گھر جلا دیا جائے گا۔

چار سال پہلے افغانستان میں طالبان کی حکومت گرنے کے بعد طالبان کی ایک تعداد پاکستان کے قبائلی علاقے میں منتقل ہو گئی جہاں ان کو پختون آبادی میں حمایت حاصل ہے۔

پاکستان کی حکومت نے وزیرستان میں کئی فوجی آپریشن کیے ہیں لیکن وہ طالبان کا اثر بلکل ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے جدہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان اطلاعات کو رد کر دیا کہ علاقے میں طالبان پھر سے سرگرم ہو گئے ہیں۔جنرل مشرف نے کہا کہ علاقے میں ستر ہزار فوج موجود ہے اور حالات قابو میں ہیں۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں سات لوگوں کو قتل کر کے کھمبوں کے ساتھ لٹکانے کے واقعات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہوا ہے۔

قبائلی علاقوں سے متعلق حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے پر خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ کہ مسلح افراد کی طرف سے جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف آپریشن میں حکومتی مداخلت نامناسب تھی کیونکہ مسلح افراد کو مقامی لوگوں کی حمایت حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ قبائلی جرگہ بلائیں گے اور وہ اس معاملے کو مقامی روایت کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
فاٹا کے صحافی برآمد نہ ہوسکے
06 December, 2005 | پاکستان
دو فوجیوں کی لاشیں برآمد
08 December, 2005 | پاکستان
فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف
15 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد