BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 September, 2005, 08:46 GMT 13:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف
وزیرستان
وزیرستان میں خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کے دوران گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں دو سو اڑسٹھ فوجی اور تین سو تریپن مبینہ شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

پشاور کے کور کمانڈر لفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے صحافیوں کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ اس آپریشن میں پاکستان فوج کے چھ سو تہتر فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔

صفدر حسین نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تین سو تریپن شدت پسندوں میں ایک سو پچھہتر غیر ملکی بھی تھے جن میں زیادہ تر تعداد ازبکستان اور تاجکستان سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ تاہم ان غیر ملکیوں میں کچھ عرب ملکوں کے باشندے بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران فوج نے پچھہتر ہزار ٹن اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔

اس کے علاوہ شدت پسند رہنماؤں کے خطبوں اور تقریروں کی کیسٹیں بھی بڑی تعداد میں برآمد ہوئی ہیں۔

جنرل صفدر نے کہا کہ انہوں نے سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے چھ سو کلو میٹر طویل سرحد کے ایک حصے پر سات سو پریسٹھ فوجی چوکیاں بھی تعمیر کی ہیں۔

وزیر ستان میں فوجی آپریشن کے دوران عورتوں، بچوں اور شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں جنرل صفدر کی بریفنگ میں کوئی اعداد شمار مہیا نہیں کیا گیا۔

66زندگی کی ہلکی رفتار
قبائلی علاقوں میں زندگی کا انداز دھیما ہے
66 آپریشن وانا
جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی پر ضیمہ
66سوداگر طالب
نیک محمد کے طالبان سے پرانے تعلقات تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد