 | | | وزیرستان میں خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں |
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کے دوران گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں دو سو اڑسٹھ فوجی اور تین سو تریپن مبینہ شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ پشاور کے کور کمانڈر لفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے صحافیوں کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ اس آپریشن میں پاکستان فوج کے چھ سو تہتر فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔ صفدر حسین نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تین سو تریپن شدت پسندوں میں ایک سو پچھہتر غیر ملکی بھی تھے جن میں زیادہ تر تعداد ازبکستان اور تاجکستان سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ تاہم ان غیر ملکیوں میں کچھ عرب ملکوں کے باشندے بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران فوج نے پچھہتر ہزار ٹن اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ اس کے علاوہ شدت پسند رہنماؤں کے خطبوں اور تقریروں کی کیسٹیں بھی بڑی تعداد میں برآمد ہوئی ہیں۔ جنرل صفدر نے کہا کہ انہوں نے سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے چھ سو کلو میٹر طویل سرحد کے ایک حصے پر سات سو پریسٹھ فوجی چوکیاں بھی تعمیر کی ہیں۔ وزیر ستان میں فوجی آپریشن کے دوران عورتوں، بچوں اور شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں جنرل صفدر کی بریفنگ میں کوئی اعداد شمار مہیا نہیں کیا گیا۔ |