قبائلی علاقے: زندگی کی سست روی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صدیوں پرانا ایک عام منظر قبائلی نوجوانوں کا اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اکیلے یا دوستوں کی صحبت میں بیٹھے گپ شپ لگانے یا وقت کاٹنے کا ہے۔ یہ مجلس اکثر حجروں، بازاروں یا راستوں کے کناروں پر جاری نظر آتی ہے۔ یہ منظر آج بھی اسی حالت میں اُتنا ہی با آسانی میسر ہے جتنا کہ شاید آج سے سو سال یا اس سے بھی قبل تھا۔ تھوڑی بہت تبدیلی اسلحے یا کپڑوں کی تراش خراش کی ہوسکتی ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو مجموعی طور پر صورتحال کوئی اتنی زیادہ تبدیل نظر نہیں آتی۔ بندوبستی علاقوں کے قریب واقعے قبائلی ایجنسیاں جیسا کہ خیبر اور باجوڑ میں پھر تبدیلی کے تھوڑے بہت اشارے ملتے ہیں لیکن جنوبی وزیرستان جیسے دور افتادہ علاقے پشاور سے نو گھنٹوں کی مسافت کے بعد پہنچیں تو جدید دور کی جدیدیت قدرے کم ہی نظر آتی ہے۔ نظر آنے والی چیزیں شاید تبدیل نہیں ہوئیں لیکن ایسا ہوا ضرور ہے۔ آغاز زبان سے کرتے ہیں۔ فاصلوں کی وجہ سے شاید وہاں کی پشتو اب بھی اپنی خالص حالت میں رائج ہے۔ وہاں کی زبان میں سختی کی وجہ وہاں کے محل و وقوع کا اثر بھی ہوسکتا ہے لیکن اس میں صدیوں میں بھی کوئی بڑا فرق شاید نہیں آیا۔ پشاور میں اردو کی ملاوٹ اور انگریزی کے تڑکے والی پشتو بولنے والوں کو بھی وزیرستان کے پٹھانوں کی زبان سمجھنے میں بسا اوقات دقت پیش آتی ہے۔ لیکن اگر وانا بازار میں موجود دو تین کیسٹس کی دوکانیں دیکھیں تو مقامی موسیقاروں اور گائکوں کے چند فن پاروں کے علاوہ اب نوے فیصد مواد پاکستانی اردو، بھارتی ہندی اور پشاور کی پشتو والا ہوگا۔ اسے تبدیلی کا آغاز شاید کہا جاسکتا ہے۔ یہ کیسٹیں فروخت کرنے والے انہیں بیچ تو سکتے ہیں لیکن بجا نہیں سکتے۔ پوچھا پابندی کس نے لگائی تو یہ دکاندار کو بھی معلوم نہیں تھا۔ کسی کا کہنا تھا کہ کسی زمانے میں جب طالبان کچھ فاصلے پر حکومت کرتے تھے تو اس وقت سے یہ پابندی عمل میں آئی ہے۔ طالبان تو چلے گئے لیکن پابندی ہٹانے کے بارے میں کسی نے کوشش نہیں کی یا رسک نہیں لیا۔ اس کے بعد بات کرتے ہیں لباس کی۔ ان کا روایتی شلوار قمیض آج بھی واحد لباس ہے جو مقبول ترین نظر آتا ہے۔ نہ پتلون اور نہ کچھ اور۔ صرف اور صرف شلوار قمیض۔ پشاور کے ساتھ اس کا موازنہ صرف اس لئے بار بار کر رہا ہوں کہ یہ پختونوں کا وہ علاقہ ہے جیسے آپ دیگر پختون علاقوں قدرے ترقی یافتہ قرار دے سکتے ہیں۔ یہاں دونوں علاقوں کے درمیان ترقی کی کتنے برسوں کی خلیج ہے یہ کہنا یا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن آج کل جس دنیا کے ایک گاؤں بنے کی باتیں ہو رہی ہیں، جس عالگیریت کا چرچا ہے اُس تناظر میں یہ دو علاقے اتنے قریب لیکن پھر بھی کتنے دور ہیں کہ جتنے شاید آج سے سو برس پہلے تھے۔ پشاور یا صوبہ سرحد جسے ملک کے دوسرے علاقوں سے قدرے زیادہ قدامت پسند کہلوایا جاتا ہے۔ وہاں بھی پتلون جیسا مغربی لباس عام ہے۔ ایک آدھ سرپھرا تو برمودے میں بھی نظر آ جائے گا۔ لیکن قبائلی علاقوں خاص کر وزیرستان میں نہیں۔ پتلون پہنے والے کو اگر چبھتی نظروں کے ساتھ گھورا جائے تو یہ پتلون والے نہ کہ قبائلیوں کا قصور ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم قبائلی بعض اوقات اپنے اوپر جبر کرتے ہوئے کبھی کبھار پتلون زیب تن کر لیتے ہیں۔ لیکن ایسے مواقعے کم ہی آتے ہیں۔ گھر لوٹنے پر ایسی کوئی چیز پہنا ناممکن ہے۔ اسی وجہ سے وہاں تعینات تمام سرکاری اہلکار شلوار قمیض ہی پہنتے ہیں کچھ اور نہیں۔ اسی وجہ سے وہاں تعینات قانون نافذ کرنے والوں کا یونیفارم بھی شلوار قمیض ہی ہے۔ اب جو وہاں پاکستانی فوج پہنچی ہے تو ان کا وہاں کے قبائلیوں کو ایک نظر نہ بھانے کی وجہ ان کا لباس بھی ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہتر ذہنی ہم آہنگی کے لئے ضروری ہے کہ ان کے درمیان فرق کم سے کم ہونا چاہیے چاہے وہ لباس ہی کا کیوں نہ ہو۔ پشاور میں تو کےایف سی اور پیٹزا ہٹ جیسی ’معیاری زندگی’ کی بین القوامی نشانیوں کے اثرات نمودار ہوچکے ہیں۔ جو قبائلی نوجوان تعلیم کے حصول کے لئے پشاور آتے ہیں یا بیرون ملک نوکری کرتے ہیں انہیں تو اس کا اندازہ ہو کہ یہ کس بلا کے نام ہیں اور یہاں کیا ملتا ہے لیکن جنوبی وزیرستان کی اکثریت اس سے واقف بھی نہیں۔ یہ قبائلی آج بھی امریکی، روسی یا کسی دوسرے مغربی ممالک کو دشمن مانتے ہونگے لیکن جب بات ان کے بنائے ہوئے اعلی ہتھیاروں کی ہوگی یا راڈو گھڑیوں کی تو یہ قبائلی انہیں ہر قیمت حاصل کرنا چاہیں گے۔ چائے اور کوک یہاں کی مقبول ترین مشروبات ہیں۔ یہ شاید کسی قبائلی کو معلوم نہ ہو کہ ہوٹلوں، دوکانوں اور گھروں میں پی جانے والی چائے برصغیر میں پہلی مرتبہ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہی انیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں متعارف کروائی تھی۔ کوک تو صرف نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ مرد جہاں ہونگے وہاں کوئی نہ کوئی نشہ بھی ضرور ہوگا۔ نسوار کے بارے میں تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ پہلے بھی مقبول تھی آج بھی ہے۔ اس کا ماضی سے موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ محتاط اندازہ یہی ہے کہ اس کا استعمال بڑھا ہے کم نہیں ہوا۔ سگریٹ بھی آئی ہے اور بڑی مقدار میں استعمال ہوتی ہے لیکن نسوار کا مقابلہ نہیں کرسکی۔ مارون، مالبرو، ریڈ اینڈ وائٹ اور گولڈ لیف جیسے مغربی کمپنیوں کے برانڈ یہاں بھی مقبول ہیں۔ حقہ کبھی قبائلیوں میں مقبول تھا اب نہیں۔ اسے اب وہاں صرف سجاوٹ کے طور پر گھر کے ایک کونے میں دھول اکٹھی کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے۔ جنگلات کی کمی کی وجہ سے لکڑی ان علاقوں میں ہمیشہ نایاب رہی ہے۔ اسی وجہ سے انگریزوں والی میز کرسی تو نہیں آ سکی اور فرشی بچھونا ہی اب بھی عام ہے۔ لیکن بعض با اثر اور متوسط گھرانوں کے حجروں میں چارپائی کی جگہ پلنگ نے لے لی ہے۔ ابھی تبدیلی یہاں سست ہے لیکن بظاہر جاری ہے۔ بجلی آئی ہے لیکن قبائلی ہمارے حکمرانوں کی طرح اس پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ وہ کام ہی ایسے نہیں کرتے جن میں اس کی ضرورت لازمی ہو۔ قبائلی اسے آنی جانی چیز مانتے ہیں لہذا اس کے آنے یا جانے کا نوٹس بھی نہیں لیتے۔ بجلی نہیں تو کمپیوٹر اور دیگر جدید آلات بھی نہیں۔ چند روز پہلے وانا میں پہلا انٹرنٹ کیفے کھلا ہے۔ کس طرح چلتا ہے معلوم نہیں۔ آمد و رفت کے لئے اونٹ گھوڑے نہیں رہے اور ان کی جگہ جاپانی گاڑیوں نے لے لی ہے۔ بازاروں میں عورتیں بلکل نہیں البتہ دیہات میں اکا دکا نظر آجاتی ہیں۔ جو خاندان کے ساتھ پشاور آبسیں، تعلیم حاصل کی اور کسی نہ کسی پیشے سے منسلک ہوئیں ان کو دیکھ کر یقین نہیں ہوتا کہ یہ اس علاقے کی ہیں۔ وزیرستان کا ترقی کی جانب سفر کچھوے کی چال سے جاری ہے۔ یہاں بھی طرز زندگی میں تبدیلی کے حامی بھی ہیں اور مخالفین بھی۔ دونوں میں جنگ کو دوام حاصل ہے۔ اس کے ناقدین اسے مغربی سازش قرار دیتے ہیں جو ان کے بقول ہے تو پُرکشش مگر تباہ کن بھی۔ دوسری جانب اس کے حمایتی اسے مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک مثبت پیش رفت مانتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا شاید معلوم ہوگا پچاس یا سو سال بعد۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||