شمالی وزیرستان: غیرملکی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج ای ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی دستوں نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دس افراد کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ ایک بیان کے مطابق اس کے علاوہ اسلحہ اور عورتوں کے کپڑے بھی ان مقامات سے برآمد ہوئے ہیں۔ پشاور میں جاری ہونے والے فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے ایک بیان کے مطابق یہ کارروائیاں شمالی وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کی گئیں۔ بیان کے مطابق مقامی افراد کی نشاندہی پر سکیورٹی دستوں نے ایجنسی کے سپین وام علاقے سے گیارہ کلومیٹر دور ڈنڈی کچ کے مقام پر ایک ویران مدرسے پر چھاپہ مارا۔ تاہم وہاں سے شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ غیرآباد علاقے میں قائم اس مدرسے کی تلاشی پر اس میں سے دستی بم، فیوز، مشین گنز، کمانڈو اور عورتوں کا لباس اور مصنوعی بال ملے۔ اس کے علاوہ لاتعداد مختلف بور کے کارتوں اور کھیلوں کا ایک میڈل بھی برآمد ہوا جس پر فارسی میں کوئی عبارت درج ہے۔ فوج کو شک ہے کہ یہ مدرسہ اس ویرانے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیےقائم کیا گیا تھا۔ ادھر شمالی وزیرستان کی وادی شوال کے قریب میرا دین علاقے سے سات جبکہ پاک افغان سرحد سے تین افراد کو دہشت گرد ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم انہیں تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے سب غیرملکی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||