فوجی ٹھکانوں پر مزید راکٹ حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مسلسل دوسری رات مختلف مقامات پر نامعلوم افراد نے ایک درجن مقامات پر بظاہر سرکاری اور فوجی اہداف کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سنیچر کے مقابلہ میں کل رات کے حملے زیادہ وسیع علاقے میں یعنی بارہ مقامات پر ہوئے جن میں چالیس کے قریب راکٹ داغے گئے۔ یہ حملے رات دس بجے کے بعد سے شروع ہوئے اور رات گئے تک جاری رہے۔ صدر مقام میران شاہ میں سرکاری اور فوجی تنصیبات پر دس راکٹ داغے گئے جن میں سے سات مختلف مقامات پر گر کر پھٹے تاہم تین راکٹ پھٹ نہ سکے۔ اسی طرح کھجوری کا قلعہ، بویہ غزلمئی میں سکاوٹس کیمپ، رزمک میں شوال رائفلز اور مانا کیمپ، الیگزینڈرہ پوسٹ، سیدگئی کے مقام پر ایک سرحدی چوکی، سپین وام اور گڑدائی روغہ میں فوجی ٹھکانے ان راکٹوں کی زد میں آئے۔ میران شاہ کے مغرب میں میرا دین کے مقام پر ایک فوجی قافلے کے گزرتے وقت سڑک کنارے ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک فوجی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ رزمک میں تین مشتبہ افراد کو حملوں میں ملوث ہونے کے شک میں حراست میں لینے کی بھی اطلاع ہے۔ کئی مقامات پر فوج نے جوابی فائرنگ بھی کی لیکن حملہ آور رات کی تاریکی میں فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ اب تک کسی گروپ یا تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری اب تک قبول نہیں کی ہے۔ تاہم ان سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ادھر قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بعض پاکستانی مذہبی جماعتیں طالبان کی افغانستان میں مدد کر رہی ہیں تاہم انہوں نے کسی جماعت کا نام لینے سے انکار کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||