مدرسے کی تلاشی، ایک شخص ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو رات گئے سکیورٹی دستوں اور نامعلوم افراد کے درمیان میران شاہ کے قریب گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں ایک مقامی شخص ہلاک جبکہ تین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مقامی قبائلیوں کے مطابق یہ جھڑپ کل شام کے وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی دستوں نے صدر مقام میران شاہ سے دو کلومیٹر کے شمال میں درگئی منڈیے کے مقام پر ایک مدرسے شعیب العلوم کی تلاشی کے لیے پیش قدمی کی جس کے جواب میں سرکاری ذرائع کے مطابق سکیورٹی دستے پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ ہوا جس کا فوجیوں نے بھی جواب دیا۔ پاکستان فوج کے ایک ترجمان کے مطابق حفاظتی دستوں پر گولیاں مدرسے سے چلائی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے مدرسے کو محاصرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ رات گئے تک جاری رہا۔ حکام کے مطابق اس تبادلے کے دوران ایک مقامی شخص ہلاک ہوگیا۔ مقامی قبائلیوں کے مطابق اس شخص کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ اس کے علاوہ فوجی ترجمان کے بقول تین افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جن میں سے ایک غیرملکی ہے۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق یہ شخص افغان ہے۔ فوجی ترجمان نے مزید بتایا کہ بعد میں مدرسے کی تلاشی کے دوران وہاں سے دستی اور کھلونا بم کے علاوہ بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ افراد کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بعد سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ کئی راتوں سے میران شاہ اور دیگر علاقوں میں سرکاری اور فوجی اہداف نامعلوم افراد کی طرف سے راکٹ حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||