میران شاہ: تین اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے غیرمسلح ہونے سے انکار کرتے ہوئے تین سرکاری اہلکاروں کو گولیاں مار کر ہلاک جبکہ تین افراد کو زخمی کر دیا۔ زخمیوں میں دو خاصہ دار جبکہ ایک راہگیر بتایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ پیر کی صبح نو بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں پیش آیا جب مقامی انتظامیہ کے اہکاروں پر مشتمل ایک گشتی جماعت نے چار افراد کو غیرمسلح کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک شخص نے مزاحمت کرتے ہوئے ان پر مبینہ طور پرگولی چلا دی جس سے محرر علی امروز موقعہ پر ہلاک جبکہ تحصیلدار افتخار احمد اور ایک خاصہ دار دل محمد نے ہسپتال میں جان دے دی۔ زخمیوں میں دو خاصہ دار اور ایک راہ گیر بتائے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ مقامی انتظامیہ نے میران شاہ بازار میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے اس واقعہ میں ملوث شخص کو حوالے کرنے کے لئے براخیل قبیلے کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ میران شاہ بازار کی سیکورٹی بھی نیم فوجی ملیشیا ٹوچی سکاوٹس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ادھر جنوبی وزیرستان سے اطلاعات ہیں کہ نامعلوم افراد نے کل رات دو مقامات پر ایک سرکاری سکول اور کلینک میں بم دھماکے کئے جن سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||