فاٹا کے صحافی برآمد نہ ہوسکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان میں پیر کو اغواء ہونے والے صحافی کو تاحال برآمد نہیں کیا گیا لیکن شمالی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ نے شک ظاہر کیا کہ حیات اللہ کو علاقے میں مبینہ عسکریت پسندوں یا قرضداروں نے اغواء کیا ہو۔ پولٹکل ایجنٹ مظہر السلام نے یہ بات صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ دس رکنی وفد میں شامل ایک صحافی حاجی مجتبیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولٹکل ایجنٹ نے اس ملاقات میں صحافیوں کے دس رکنی وفد پر زور دیا کہ وہ میڈیا میں حیات اللہ کی اغواء کی خبر زیادہ نہ اچھالیں۔ پولیٹکل ایجنٹ کا کہنا تھا کہ حکومت نے برآمدگی کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی گشتی ٹیمیں بھیجی ہیں اور علاقے کے موثر مذہبی علماء کو بھی سرگرم کردیا ہے۔ حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے پولٹیکل ایجنٹ کی اس بات کو رد کردیا کہ انہیں ہو سکتا ہے قرضداروں نے اغواء کیا ہو۔ قومی اخبار کے لیے کام کرنے والے حیات اللہ کو پانچ نقاب پوشوں نے میر علی کے علاقے میں اغواء کیا تھا۔ حیات اللہ کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ امکان ہے کہ انہیں حکومتی ایجنسیوں ،مبینہ عسکریت پسندوں یا تاوان کےلیے اغواء کیا گیا ہو لیکن بقول انکے حکومت کی طرف سے برآمدگی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی ہے۔ مغوی صحافی حیات اللہ نے چند روز قبل میر علی میں پانچ افراد کی ہلاکت پر رپورٹ بنائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میر علی میں مقامی شخص حاجی صادق نور کے گھر میں دھماکہ نہیں بلکہ گائیڈڈ میزائل کا حملہ ہوا تھا۔ حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب گھر میں موجود مبینہ شدت پسند دستی بم بنارہے تھے کہ وہ پھٹ پڑا۔ ہلاک ہونے والوں میں مصری نژاد ابوحمزہ ربیعہ بھی شامل تھے جس کی ہلاکت کی تصدیق جنرل پرویز مشرف نے کی جبکہ امریکہ نے تاحال تصدیق نہیں کی ہے۔ احسان وزیر کے بقول حاجی صادق نور انکے قریبی رشتہ دار تھے۔ حیات اللہ کے بھائی نے دعوہ کیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے سات گائڈڈ میزائل کے خول اب بھی انکے پاس گھر میں پڑے ہیں۔ | اسی بارے میں صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان فاٹا میں صحافی کا اغواء05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||