صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ایک صحافی حیات اللہ کے اغوا کے خلاف منگل کے روز قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے صحافیوں نے علامتی واک آؤٹ کیا۔ صحافیوں کے واک آؤٹ کے بعد وزیر قانون محمد وصی ظفر پریس لاؤنج میں آئے اور انہوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ حکومت صحافی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ بعد میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے ایوان میں بیان دیا کہ وہ صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ایوان کو مطلع کریں گے اور متعلقہ صحافی کو بازیاب کرانے کے اقدامات بھی کریں گے۔ شمالی وزیرستان سے اطلاعات کے مطابق ایک اردو اخبار کے صحافی حیات اللہ داور کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ مغوی صحافی کے بھائی احسان اللہ کا کہنا ہے کہ پانچ مسلح نقاب پوش ایک گاڑی میں آئے اور ان کے بھائی کو اٹھا کر لے گئے۔ اس سے قبل گزشتہ اتوار کو درہ آدم خیل میں ایک مقامی صحافی ناصر آفریدی دو مسلح گروپوں کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ادھر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظھر عباس نے صحافی کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاصا تشویش ناک معاملہ ہے کہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ایک صحافی کو قتل اور دوسرے کو اغوا کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات آزادی صحافت کو روکنے کی ناکام کوششیں ہیں۔ دریں اثناء صحافیوں کے تحفط سے متعلق کمیٹی ’سی پی جے، نے بھی حیات اللہ کے اغوا پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کرے۔ | اسی بارے میں فاٹا میں صحافی کا اغواء05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||