فاٹا میں صحافی کا اغواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان سے اطلاعات کے مطابق ایک قومی اخبار کے صحافی حیات اللہ داور کو نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا ہے۔ حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پانچ مسلح نقاب پوش ایک گاڑی میں آئے اور ان کے بھائی حیات اللہ کو اٹھا کر لے گئے۔ اس سے قبل اتوار کو درہ آدم خیل میں ایک مقامی صحافی دو مسلح گروپوں کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ صحافی کی ہلاکت اور فاٹا میں صحافیوں پر تشدد کے خلاف پیر کو فاٹا کے صحافیوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے دوران پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف قسم کے نعرے درج تھے۔ مظاہرہ میں سات ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں صحافیوں نے حصہ لیا۔ صحافیوں کے ایک دھڑے کے صدر ناصر محمد نے کہا کہ فاٹا میں صحافی حضرات محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاص کر شمالی اور جنوبی وزیرستان میں صحافت سے وابستہ لوگ شدید مشکلات دوچار ہیں اور اکثر صحافی علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ انہوں نےمقتول صحافی کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ | اسی بارے میں فاٹا ارکان پارلیمان، مشرف ملاقات13 April, 2004 | پاکستان ’فاٹا کوصوبائی نمائندگی دی جائے‘ 08 December, 2004 | پاکستان فاٹا فائرنگ دو افراد زخمی09 March, 2005 | پاکستان فاٹا: ’مًلک‘ نظام مضبوط کیا جائے گا25 June, 2005 | پاکستان فاٹا کے لوگ ایڈز کے علاج سے محروم01 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||