فاٹا کے لوگ ایڈز کے علاج سے محروم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے کے سنگم پر واقع ضلع ہنگو کے ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا پچاس سالہ وقعت شاہ سے جب پوچھا جاۓ کہ طبیعت کیسی ہے اور علاج کس مرحلے میں ہے تو جواب میں کئی مرتبہ سر کو نفی میں ہلا ہلا کر کہتے ہیں کہ ’حکومت نے کچھ نہیں دیا ہے ۔‘ وہ کہتے ہیں: ’گذشتہ دو سال سے علاج کرانےکے وعدوں پر گزارہ ہورہاہے۔ایڈز کی دوائیاں مہنگی ہیں اور ساتھ میں بچوں کو بھی تو پالنا پڑتا ہے بس زندگی کے دن ہیں گن رہا ہوں۔‘ نو سال سے ایڈز کے مرض میں مبتلا وقعت شاہ اس لیے خوش قسمت ہیں کہ پشاور میں پاکستان دیہی ترقیاتی پروگرام کے نام سے ایک این جی او کے ساتھ کوہاٹ میں ایڈز پروجیکٹ میں بطور ملازم کام کرتے ہیں اور انہیں کچھ حد تک علاج کاموقع میسر آجاتاہے۔ مگر صوبہ سرحد بالخصوص سات قبائلی ایجنسیوں کے غریب ایڈز زدہ افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ہر قسم کے علاج سے محروم ہیں۔ سرحد ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق اس وقت صوبے میں چارسو ساٹھ مریضوں میں سے ساٹھ سے ستر فیصد مریضوں کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے جن میں زیادہ تر کرم ایجنسی اور شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سرحد ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈاکٹر بلال کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اس وقت ایڈز کے حوالے سے صورتحال اس لیے تشویشناک ہے کہ وہاں پر ایچ آئی وی ایڈز سے بچاؤ، آکاہی اور علاج کیلئے جامع اور سنجیدہ بنیادوں پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ان کے بقول اگر مزید غفلت برتی گئی تو مریضوں کی تعداد میں پانچ سے سات فیصد مزید اضافہ ہوسکتاہے۔ قبائلی علاقوں کے لوگ کافی تعداد میں محنت مزدوری کے لیے خلیجی ممالک بالخصوص ابوظہبی اور دبئی جاتے ہیں اور ڈاکٹر بلال احمد کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر بلال کے مطابق وہاں کے حکام خون کی سالانہ تشخیص کے بعد انہیں ایچ آئی وی پازیٹیو پاکر پاکستان واپس بیج دیتے ہیں۔ پاکستان واپس آ کر سماجی دباؤ کے تحت یہ لوگ کسی کو کچھ نہیں بتاتے اور ایچ آئی وی وائرس اپنے بچوں کو منتقل کردیتے ہیں۔ سرحد ایڈز پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر نسرین کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کے خاندان کے خاندان ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہیں لیکن خوف کی وجہ سے کوئی بھی سامنے نہیں آرہا ہے۔ اس بات کی تائید کوہاٹ میں غیر حکومتی ادارے پاکستان دیہی ترقیاتی پروگرام کی ایڈز پروجیکٹ کی انچارج غزالہ بھی کرتی ہیں۔مس غزالہ کے بقول سماجی دباؤ اور قدامت پرستی کے معاشرتی رجحانات کیوجہ سے ایڈز کے مریض سخت ذہنی دباو کا شکار ہیں۔ انھوں نے ایک خاتون کے حوالے سے بتایا کہ اس کے گھر والے اس سے ہاتھ نہیں ملاتے اور اسے باورچی خانے میں جانے سے روکتے ہیں۔ یہ صرف اس خاتون کی کہانی نہیں جس کا ذکر مس غزالہ کرتی ہیں بلکہ وقعت شاہ بھی اس قسم کا گلہ کرتے ہوے نظر آئے اور کہا کہ گاؤں کے لوگ ان سے ملنے سے گریز کرتے ہیں اور انکو گناہگار کہتے رہتے ہیں۔ گرچہ قبائلی علاقوں کیلئے حکومت نے ایڈز کنٹرول کا ادارہ بنایا ہے مگر اسکی فعالیت نہ ہونے کے برابر ہے۔سماجی دباؤ کے علاوہ مریضوں کو علاج کیلۓ دوائی تو دور کی بات ہے تشخیص کیلۓ ایجنسی کےسطح پر بھی کوئی انتظامات نہیں کۓ گۓ ہیں۔ ڈاکٹر افتخار علی فاٹا ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ہیں اور انکا کہنا ہے کہ حکومت کیلۓ وہاں کام کرنا اس لیۓ مشکل ہے کہ سیکس اور کنڈوم اور دیگر جنسی اصطلاحات پر کھل کر بات نہیں کی جاسکتی۔ انکے بقول حکومت مستقبل قریب میں ایڈز کے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کررہی ہے جسمیں علماء اور قبائلی عمائدین شامل کیۓ جائیں گے۔انکے بقول خلیجی ممالک سے آنے والے افراد کیلۓ خون کی تشخیص لازمی بنانے پر بھی بہت جلد عملدرآمد کیا جائیگا۔ دیکھا جاۓ تو اس وقت فاٹا ایڈو کنٹرول پروگرام اور سرحد ایڈز کنٹرول پروگرام کے علاوہ بہت سی غیر حکومتی ادارے ایڈز سے بچاؤ کیلۓ کام کرنے میں مصروف ہیں جنکے اہلکاروں کی تعداد صوبہ اور قبائلی علاقوں کے ایچ ائی وي ایڈز میں مبتلا چارسو ساٹھ مریضوں سے زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی ایڈز کے بارے میں آ گاہی کے پروگرام اور علاج کا بندوبست مؤثر نہیں ہے اور ایچ ائي وی ایڈز کی ادویات اسلام آباد تک پہنچنے کے باوجود ضرورت مندوں تک تاحال نہیں پہنچ سکی ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان: ایڈز میں اضافہ27 November, 2004 | پاکستان پاکستان میں ایچ آئی وی کی دوا26 May, 2005 | پاکستان دینی مدارس، ہیجڑے اور ایڈز07 December, 2004 | پاکستان ’صوبہ سندھ ایڈز سے زیادہ متاثر‘01 December, 2004 | پاکستان بازار میں آگہی26 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||