| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بازار میں آگہی
’ہم نے سب سے بڑی تبدیلی جو یہاں دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لوگ کونڈوم استعمال نہیں کرتے تھے اور لڑکیاں گاہکوں کو اسی طرح اپنے پاس آنے دیتی تھیں لیکن اب سب تھوڑا بہت بچتے ہیں۔ اسی طرح پہلے کوئی بازار سے کونڈوم خریدنے نہیں جاتا تھا اب لڑکیاں خود جا کر سٹور سے لے آتی ہیں۔ پہلے وہ بازار جانے میں شرم محسوس کرتی تھیں اور اب بھی جو جہجک محسوس کرتی ہیں وہ ہمارے پس آ جاتی ہیں۔‘ یہ بات لاہور کے ریڈ لائٹ ایریا یا بازارِ حسن میں عورتوں کی صحت کے حوالےسے کام کرنے والی ایک تنظیم شیڈ کی سربراہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔ تیس سالہ لبنیٰ طیب شیڈ (سٹرینگ تھننگ ہیلتھ، ایجوکیشن، اینوائرمنٹ ڈیوپلپمنٹ) نامی تنظیم 1992 سے چلا رہی ہیں لیکن اس کی رجسٹریشن 2000 میں کروائی گئی۔ لبنیٰ طیب کہتی ہیں کہ وہ اس علاقے کے لوگوں کے مسائل دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسی علاقے سے تعلق رکھتی ہیں اور یہاں ہی پیدا ہوئی ہیں۔ ’میں پیدا ہی اس علاقے میں ہوئی ہوں اس لیئے لوگ مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور مجھ سے کوئی بات نہیں چھپاتے۔ میں ہر کسی کے گھر آسانی کے ساتھ آ جا سکتی ہوں۔ ہماری محلے داری ہے اور مجھے یہاں کام کرتے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘ لبنیٰ طیب نے کہا کہ مختلف تنظیمیں یہاں آ کرکام کرتی تھیں اور سال دو سال کے پراجیکٹ کے بعد واپس چلے جاتی تھیں۔ ’لوگوں کا علم اور آگہی وہیں کی وہیں رہتی تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ پھر ہم نےسوچا کہ کیوں نہ ہم خود ایک سوسائٹی بنائیں جو یہاں کے لوگوں کو آگہی پہنچائے اور مشکلات کو سمجھتے ہوئے ان کی مدد کرے۔
’ہم لوگوں کو کونڈومز مہیا کرتے ہیں، ہفتہ وار ایک گائنی ڈاکٹر یہاں آتی ہے اور یہاں رہنے والیوں کو مفت سہولت فراہم کرتی ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ بازارِ حسن میں کتنے ایچ آئی وی ایڈز کے کیس ان کے سامنے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ 1992 سے لے کر 2003 تک ان کے سامنے ایڈز کے آٹھ مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں تین لڑکیاں ایک ہی خاندان سے تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد وہ پورے کا پورا خاندان یہاں سے غائب ہو گیا ہے اور اس طرح کے غائب ہونے وال لوگوں سے ایڈز پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خاندان میں ہلاک ہونے والوں میں ایک لڑکی سلمٰی، اس کی والدہ اور اس کی بیٹی کو ایڈز تھی۔ یہ سب لوگ آخری سٹیج پر سامنے آئے تھے اور ان میں ایڈز کا وائرس مکمل طور پر پھیل چکا تھا۔ ’اس کے بعد 1999 میں ایک کیس آیا۔ وہ لڑکی حاملہ تھی۔ جب اچانک اس کا جسم سوج گیا تو ہمیں تشویش ہوئی۔ ہم اسے سروسز ہسپتال لے کر گئے اور اس کے بعد لیڈی ایچیسن میں ڈاکٹر نادر خان نے ہمیں بتایا کہ اس لڑکی کو ایچ آئی وی وائرس ہے۔‘ لبنیٰ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پنجاب میں ایڈز کنٹرول والوں کو فون بھی کیے کہ آپ اس سلسلے میں کیا مدد کر سکتے ہیں۔ ’لیکن انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنی سہولیات نہیں ہیں اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘ لبنیٰ نے بتایا کہ تیسرا بڑا کیس ایک لڑکی مانی کا تھا جو حاملہ تھی۔ اس کی موت ہو گئی۔ ’اس کی بہنوں اور ان کی بیٹیاں بالکل ٹھیک تھیں۔ یہاں تک کہ ہم نے اس کے دوست کا بھی ٹیسٹ کروایا تھا اور اس کو بھی کوئی وائرس نہیں تھا۔‘ لبنیٰ نے کہا کہ انہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے لئے اس علاقے کے اعداد و شمار اکٹھے کیے تھے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق بازارِ حسن میں 6000 کمرشل سیکس ورکرز یعنی پیسے کے عوض جنسی خدمات انجام دینے والی لڑکیاں ہیں۔ ’ان میں سے 4000 مستقل ہیں اور 2000 ہر تین ماہ بعد دوسرے علاقوں سے یہاں آتی ہیں اور کچھ عرصہ کام کر کے چلے جاتی ہیں۔‘ خطرہ تو ان سب سے ہے۔ لیکن آنے جانے والوں سے ذرا زیادہ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||