فاٹا: ’مًلک‘ نظام مضبوط کیا جائے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے قبائلی علاقوں میں ایجنسی کی سطح پر امن کمیٹیاں قائم کرنے اور قبائلی ’مًلک’ کے نظام کو مضبوط کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز پشاور میں گورنر سرحد خلیل الرحمان نے آج جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے احمد زئی وزیر قبائل کے ایک جرگے سے ملاقات میں پیش کی۔ جرگے کی قیادت رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک کر رہے تھے۔ ان کمیٹیوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ علاقے میں قیام امن اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے یہ کمیٹیاں منتخب نمائندوں اور عمائدین پر مشتمل ہوں گی۔ انہوں نے قبائلیوں کو ان کے صدیوں پرانی روایات نہ چھیڑنے کی بھی ضمانت دی۔ گورنر کی یہ تجویز تاہم متنازعہ ثابت ہوسکتی ہے جس میں وہ ’ملک‘ کا نظام مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ قبائلی ملکوں کے خلاف پہلے ہی کافی شکایات پائی جاتی ہیں۔ گورنر کا کہنا تھا کہ علاقے میں قیام امن ملکوں کی ہی ذمہ داری تھی لیکن بدقسمتی سے وہ بقول ان کے غیرملکی عناصر کے یرغمالی بن گئے جس سے جنوبی وزیرستان میں انارکی پھیلی۔ گورنر نے جرگے کی جانب سے ان سات افراد کی رہائی کا مطالبہ مسترد کر دیا جنہیں فوجی کارروائیوں کی دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ گورنر کا موقف تھا کہ حکومت کو ابھی بھی چند افراد مطلوب ہیں ان کو حوالے کیے جانے کے بغیر ان کی رہائی ممکن نہیں۔ انہوں نے قبائلیوں کو یاد دلایا کہ حکومت کے ساتھ امن معاہدوں کے تحت وہ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ بقیہ مطلوب افراد کو حوالے کر دیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے’ملک‘ نظام کو دوبارہ مضبوط کرنے کی بات کی ہے۔ اس سے قبل وہ قبائلی علاقوں میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلدیاتی اور دیگر اصلاحات لانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||