BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 November, 2004, 06:42 GMT 11:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مجوزہ جرگہ قانون کی مخالفت

سندھ جرگہ
سندھ ہائی کورٹ جرگہ سسٹم کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکاہے
پاکستان کے صوبے سندھ کی حکومت ایک قانون آرڈ یننس کی شکل میں جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت اندرون سندھ تنازعات اور جھگڑوں کے تصفیے کے لئے ایک نیک مرد کو تصفیہ کرانے کا اختیار حاصل ہو گا اور یہ فیصلہ کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

انسانی حقوق اور آزادی نسواں کی غیر سرکاری تنظیموں نے اس قانون کے مسودے پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس قانون کے ذریعے حکومت صوبے میں جرگہ سسٹم، جسے سندھ ہائی کورٹ غیر قانونی قرار دے چکا ہے، کو دوبارہ رائج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون سے صوبے میں ایک متوازی نظام عدل قائم ہو جائے گا۔

ان تنظیموں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ یہ قانون عورتوں کے خلاف بنایا گیا ہے اور اس سے کاروکاری جیسے سنگین جرم کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے۔

اس قانون جس کا نام سندھ ایمیکیبل سیٹلمینٹ آف ڈسپیوٹس آرڈیننس 2004 تجویز کیا گیا ہے میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون 25 اپریل 2004 سے نافذالعمل ہو گا۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 24 اپریل کو سندھ میں جرگہ سسٹم کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

اس قانون کے مطابق یہ آرٹیننس تمام عدالتی فیصلوں اور احکام سے ماورا ہو گا اور کوئی بھی عدالتی فیصلہ یا حکم اس کے نفاذ پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

اس مجوزہ قانون کے سیکشن تین کی شق سی میں نیک مرد کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ نیک مرد وہ ہو گا جس کی مقامی لوگوں عزت کرتے ہوں اور اس پر اعتماد کرتے ہوں اور اس کو تنازعے میں ملوث دونوں پارٹیوں کی نامزدگی حاصل ہو۔

قانون کے مطابق کوئی بھی وکیل تنازعے میں ملوث کسی پارٹی کی طرف سے پیش نہیں ہو سکتا اور کوئی بھی شخص نیک نیتی کی بنیاد پر کئے گئے نیک مرد کے فیصلے اور حکومت سندھ کے خلاف عدالتی کاروائی کرنے کا مجاز ہو گا۔

صوبائی وزیر قانون چودھری افتخار نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پر اندرون سندہ سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی کا بہت پریشر ہے کہ ایسا ایک قانون بنایا جائے کیونکہ ان کے جھگڑوں کو کوئی طے کرنے والا نہیں ہے، لہذا حکومت اس قانون کو جاری کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

انھوں نے اس اعتراض کو مسترد کر دیا کہ اس قانون سے کاروکاری کو قانونی تحفظ ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے کاروکاری کے بارے میں نئے قانون میں کسی بھی صلح کے امکان کو ختم کر دیا گیا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کی سندھ چیپٹر کی سربراہ انیس ہارون کا کہنا ہے کہ حکومت یہ آرڈیننس خاموشی سے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے ہوتے ہوئے اس قانون کو ایک آرڈیننس کے تحت لانے کی کوشش کرنا حکومت کی بد نیتی کو ثابت کرتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے اس سال اپریل میں جرگے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
سندھ میں ہر سال درجنوں لڑکیوں کو کاری قرار دینے کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر کے قتل کا فیصلہ جرگوں میں کیا جاتا ہے۔

اسی ہفتے سندھ ہائی کورٹ نے گمبٹ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی روزینہ اجن کی درخواست پر گمبٹ پولیس کو آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر جائیداد کے تنازعے پر پہلے روزینے کے والد عزیز اللہ اجن کو قتل کیا اور اس کے بعد جائیداد ہتھیانے کے لئے روزینے کو کاری قرار دے کر قتل کرنے کی کوشش کی۔

روزینے اپنی والدہ کے ساتھ بھاگ کر کراچی آگئیں اور دونوں پچھلے کئی ماہ سے کراچی کے دارالامان میں رہ رہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد