BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 April, 2004, 13:30 GMT 18:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرگہ پر پابندی متنازعہ

سندھی بزرگ
جرگے کا منظر
صوبۂ سندھ میں جرگوں پر پابندی اور ان کا اِنعقاد کرنے والوں پر مقدمہ درج کرنے والے عدالتی حکم کے بعد صوبے میں سرداروں کے جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

صوبائی حکومت میں شامل شخصیات بھی جرگوں میں ہونے والے فیصلوں کی حمایت کر رہی ہیں۔

جرگے
 سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی سرحدی پٹی میں گزشتہ ایک سال میں ڈیڑھ سو سے زائد جرگے منعقد ہو چکے ہیں جن میں کارو کاری، قتل، چوری، ڈکیتیوں اور زمینوں پر قبضے کے معاملات کے فیصلے جرمانے عائد کرکے کئے گئے ہیں۔
دریں اثناء سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ کے فیصلے کے بعد شکارپور، جیکب آباد اور گھوٹکی کے اضلاع میں بیس سے زائد جرگے ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

جرگےمنعقد کرنے میں اہم مقام رکھنے والےشہر شکارپور کے سردار ہمت کماریو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پاس ہونے والے جرگے ملتوی کردیئے ہیں۔

تاہم ان کا خیال ہے کہ جرگوں پر پابندی لگانے والے حالیہ عدالتی فیصلے سے دشواریاں پیدا ہونگی۔ لیکن اس کے باوجود جرگوں کے بارے اُن کا کہنا تھا کہ جرگوں میں وڈیرے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا جرگے سے پہلے علاقے کے لوگوں کا اجتماع کر کے فریقین کو اپنی حمایت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ کماریو کا کہنا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انصاف کی فراہمی کے لئے عدالتیں قائم ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ مقدمات تو تھانوں میں درج ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے پولیس جعلی گواہ پیش کرتی ہے اور عدالت ان گواہوں پر یقین کر کے فیصلہ سنا دیتی ہے-

بہتر فیصلے
 جرگے افغانستان ، بلوچستان اور سرحد میں ہوتے ہیں۔ سندھ میں کچھ مسائل پر سردار اور بزرگ بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں جو بہتر ہوتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر
ان کا موقف تھا کہ جرگے میں پچاس افراد سے گواہی لی جاتی ہے اور ہر گواہ سے قرآن مجید پر حلف لیا جاتا ہے۔

جرگوں میں لوگوں کا کوئی خرچ بھی نہیں ہوتا جبکہ عدالتوں میں وکیل پر بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرگوں میں خرچہ فیصلہ کرنے والوں کا ہوتا ہے جو کھانا کھلاتے ہیں اور مہمانوں کا انتظام کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ کچھ سردار ناحق فیصلے بھی کرتے ہیں کہا کہ اکثر فیصلے حق پر کئے جاتے ہیں جو پائیدار ہوتے ہیں۔

News image
ہمت کماریو نے کہا کہ بمشکل دو فیصد ایسے فیصلے ہونگے جن میں فریقین منحرف ہوئے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرگے میں سردار اور مشیر کا کردار ضامن کا ہوتا ہے۔

نوجوان وکیل ایاز لطیف پلیجو نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمات میں شکایت ریاست کی طرف سے دائر ہوتی ہے۔ لہذا کسی فرد یا گروہ کو سمجھوتہ یا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

 چھوٹے تنازعات کے لئے جرگے کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ قتل، اغوا اور دیگر سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔
آئی جی سندھ کمال شاہ
اس تصور کی بنیاد یہ ہے کہ فوجداری مقدمات میں جرم ریاست اور سماج کے خلاف جرم تصور ہوتا ہے اور چند ایک لوگ اس کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی اور ڈی پی او جیسے سینئر افسران خود جرگوں میں بیٹھتے ہیں اور ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔

سندھ پولیس کے سربراہ سید کمال شاہ نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے تنازعات کے لئے جرگے کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قتل، اغوا اور دیگر سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قرآن شریف میں بھی کہا گیا ہے کہ اگر دو افراد میں جھگڑا ہو تو ان میں صلح کرا دو۔

ایڈووکیٹ ایاز لطیف کہتے ہیں کہ تعزیرات پاکستان میں کوئی بھی جرم چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، جرم جرم ہوتا ہے اور اس ضمن میں عدالت کو فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔

ایاز لطیف کے مطابق کسی بھی علاقے میں جرگہ کی صورت میں صحافی یا عام توہین عدالت کا مقدمہ درج کروا سکتا ہے اور پولیس بھی ایسے جرگوں کے خلاف ازخود مقدمہ درج کرسکتی ہے۔

نئے نام سے
 سرداروں کےموقف اور حکومت کے رویے سے لگتا ہے کہ جرگے اب بھی ہونگے صرف ان کا نام تبدیل ہو جائےگا-
جامی ساقی
سردار احمد یار شر جو سندھ اور پنجاب کی سرحدی پٹی میں جرگہ کرنے اور شائشتہ عالمانی کیس میں اہم کردار کے حوالے سے مشہور ہیں وہ عدالتی فیصلے کے باوجود جرگہ منعقد کرنے کو درست سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اب پنجاب کے شہر رحیم یارخان میں واقع اپنی بیٹھک پر فیصلے کرینگے۔

انہوں نے جرگوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جرگہ نہ ہونے کی وجہ سے شر قبیلے کے دو گروہوں اٹلانی اور صابانی کے سولہ افراد مارے گئے ہیں اور اگر جرگہ نہ ہوا تو مزید لوگ مارے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت بعد میں ان لوگوں کو کیا انصاف دے گی؟

ان کا خیال ہے کہ جرگے نہ ہونے کی صورت میں قبائل کے درمیاں تصادم میں تیزی آئیگی اور خونریزی بڑھے گی۔

سرداروں کے علاقے گھوٹکی میں کام کرنے والے سماجی کارکن اللہ ورایو بوزدار کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے پر اس وقت تک عمل ممکن نہیں ہے جب تک پولیس میں بھی اسی سوچ کے افسران موجود نہ ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی پی او اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران خود سرداروں کو چِٹھیاں لِکھ لِکھ کر فیصلہ کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سردار حکومت میں ہیں اس طرح کے عدالتی فیصلوں سے عملی طور پر کوئی فرق نہیں پڑےگا-

گھوٹکی کے سردار خاندان سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعلیٰ سندھ علی محمد مہر نے عدالتی فیصلے کے بعد سکھر میں ایک ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جرگے افغانستان ، بلوچستان اور سرحد میں ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں کوئی جرگہ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کچھ مسائل پر سردار اور بزرگ بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں جو بہتر ہوتے ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے رکن یوسف لغاری کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق صرف قتل کے مقدمات کا فیصلہ جرگوں میں نہیں ہو سکتا لیکن سمجھوتےکو قانونی حیثیت حاصل ہے۔

قصاص اور دیت شرعی قانون ہے جو کہ موجودہ صورتحال میں آئین سے بھی بالاتر ہے جس کی رُو سے سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ درخواست تحفظ کے لئے تھی نہ کہ مفاد عامہ کے لئے۔ انہوں نے اسے ’جوڈیشل ایکٹو ازم‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جرگہ عدالتی کام میں دخل اندازی ہے لیکن یہ روایات میں موجود ہے۔

وکیل ایاز لطیف پلیجو شریعت قانون کی توضیح دوسرے انداز میں کرتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ ملزم کو صرف متاثر فریق کے ورثا معاف کر سکتے ہیں بشرطیکہ یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہو اور یہ سمجھوتہ عدالت کے سامنے ہو۔

کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سابق رہنما کامریڈ جام ساقی کا کہنا ہے کہ سرداروں کےموقف اور حکومت کے رویے سے لگتا ہے کہ جرگے اب بھی ہونگے صرف ان کا نام تبدیل ہو جائےگا-

اب ان کو جرگہ نہیں ’راجونی فیصلے‘ ( پنچائتی فیصلے) کا نام دیا جائےگا- ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے ایک ستون عدلیہ نے تو اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی ہے- اب ریاست کے دیگر ستونوں پر ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔

سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی سرحدی پٹی میں گزشتہ ایک سال میں ڈیڑھ سو سے زائد جرگے منعقد ہو چکے ہیں جن میں کارو کاری، قتل، چوری، ڈکیتیوں اور زمینوں پر قبضے کے معاملات کے فیصلے جرمانے عائد کرکے کئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد