’شائستہ اور بلخ شیر ساتھ رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ نے فیصلہ دیا ہے کہ شائستہ عالمانی اور بلخ شیر اب جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ جسٹس شبیر احمد اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے منگل کو جب اس مقدمے کا فیصلہ سنایا تو شائستہ عالمانی اور بلخ شیر عدالت میں موجود تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’شائستہ عالمانی اور بلخ شیر مہر کو آزادی کے ساتھ جہاں وہ چاہیں وہاں جانے کی اجازت ہے۔‘ مقدمے کی سماعت کے آغاز پر دونوں نے ایک دوسرے کو چھ ماہ بعد پہلی بار دیکھا۔ فیصلے کے سنائے جانے کے بعد جب دونوں عدالت سے باہی نکلنے تو ایک ہجوم ان کے ہمراہ تھا۔ پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن ، عورت فاؤنڈیشن اور ویمنز ایکشن فورم نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شائستہ عالمانی اور بلخ شیر دونوں ہی کو اپنے اپنے مہر اور عالمانی قبائل کے با اثر افراد سے جان کا خطرہ ہے کیونکہ دونوں نے اپنی قبائلی رسوم کے خلاف شادی کی تھی۔ بلخ شیر مہر کو زبردستی اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جبکہ شائستہ عالمانی کو ’کاروکاری‘ کی سزا دینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ تینوں غیر سرکاری تنظیموں نے سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ شائستہ عالمانی اور بلخ شیر کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ دونوں میاں بیوی کی بحیثیت سے آزادانہ طور پر زندگی گزار سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||