| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شائستہ عالمانی: پولیس میں بھرتی
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق صوبے کے وزیرِ اعلیٰ نے سندھ پولیس میں شائستہ عالمانی کے بطور اے ایس آئی تقرر کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ ان کو پولیس لائنز میں رہائش گاہ فراہم کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ شائستہ عالمانی نے پچھلے سال جولائی میں مہر قبیلے کے ایک فرد قادر بخش عرف بلخ شیر سے شادی کی تھی۔ اس پسند کی شادی پر عالمانی قبیلے کے سرداروں نے شائستہ کو کاری قرار دیا تھا اور دونوں قبائل کے سردار اس رشتے پر ناخوش تھے۔ شائستہ اور بلخ شیر نے کراچی آکر عدالت سے رجوع کیا اور ان کو پولیس کی حفاظت میں ایدھی ہوم بھجوا دیا گیا۔ اس کے بعد وہ کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے اور خیال تھا کہ وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ لیکن پھر دسمبر میں بلخ شیر نے اعلان کیا کہ انہوں نے شائستہ کو طلاق دے دی ہے۔ ان مختلف واقعات کے بعد شائستہ عالمانی نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ ان کو پولیس میں بھرتی کرا دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی ملازمت سے ان کو کچھ تحفظ فراہم ہوگا کیونکہ ان کے خاندان اور قبیلے نے ان کو نکال دیا ہے اور سرداروں کے ان کو کاری قرار دینے سے ان کی زندگی کو بھی خطرہ ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے اس فیصلے سے عالمانی اور مہر قبیلوں میں اختلافات بڑھنے کے امکان ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر کے بڑے بھائی سردار علی گوہر اس تنازع کے دوران عالمانی قبیلے سے بات چیت کرتے رہے۔ عالمانی قبیلے کا موقف ہے کہ یہ شادی دونوں قبائل کے لئے وقار کا مسئلہ بن گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||