BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 April, 2004, 13:43 GMT 18:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ ہائیکورٹ: جرگوں پر پابندی

News image
سندھ میں جرگے شادی جیسے معاملات میں فیصلے کرتے رہے ہیں
سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے قبائل کے سرداروں کے منعقد کردہ جرگے اور ان جرگوں کے فیصلوں کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔

جسٹس رحمت حسین جعفری نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ مستقبل میں ایسے جرگے بلانے والوں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے جس میں چھ ماہ سے سات سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ جرگوں کے فیصلوں کے نتیجے میں اگر کوئی قتل ہوا تو پھر جرگہ کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت، جو عمداً قتل سے متعلق ہے، قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا -

عدالت نے یہ فیصلہ شازیہ منگی اور احسان چاچڑ کی درخوست پر دیا ہے۔ متعلقہ درخواست گزشتہ نومبر کو عدالت میں داخل کی گئی تھی۔

شازیہ اور احسان نے سول جج ڈھرکی (ضلع گوٹکی) کی عدالت میں سولہ اکتوبر کو پیش ہو کر باہمی رضامندی سے شادی کر لی تھی۔

شادی کے بعد شازیہ کے والد نے چاچڑ قبیلہ کے سردار عبدالرحمٰن چاچڑ کے لڑکے احسان اور اس کے والد عبدالغفور چاچڑ کے خلاف درخواست دی تھی جس پر وکیل شبیر شر کے مطابق سردار نے جرگے میں اس شادی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے لڑکے کے والد پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ اور لڑکی کو طلاق دے کر اس کے والد کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

قبیلہ کے سردار کے فیصلے کے بعد احسان چاچڑ نے شازیہ کے ہمراہ اپنے والد کا گھر چھوڑ کر کہیں اور پناہ لے لی تھی اور اپنے وکیل شبیر شر کی وساطت سے عدالت عالیہ میں تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اسی طرح کے جرگوں کے فیصلے کے نتیجے میں سانگھڑ کی شازیہ خاصخیلی اور حسن کو قتل کر دیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے تحت انیس سو ٹریسٹھ کے بعد سندھ اور پنجاب میں جرگوں کا انعقاد منع ہے لیکن اس کے باوجود کھلے عام جرگے بلائے جا رہے ہیں۔

عدالت کے اس فیصلے سے بہت پہلے اس وقت کے لاڑکانہ ڈویژن کے کمشنر نذر محمد مہر اور پھر کچھ عرصے بعد ضلع شکارپور کے ایک سابق سپرنٹینڈنٹ پولیس ثناء اللہ عباسی نے اپنے اپنے علاقوں میں جرگوں کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی تھی۔

لیکن سرداروں نے ان انتظامی فیصلوں کی کھلے عام خلاف ورزی کی تھی۔ عباسی نے جب پکڑ دھکڑ کی تو اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر نے پولیس کے ضلعی سربراہ کو تحفظ دینے کی بجائے سرداروں کی شکایت پر عباسی کا ان کے اپنے مفاد کے نام پر تبادلہ کر دیا تھا حالانکہ یہ فیصلہ وفاقی وزیر کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔

جسٹس رحمت حسین جعفری کے اس فیصلے کے نتیجے میں قبائل کے سرداروں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

صوبائی وزیر منظور پھنور کے علاوہ تمام سرداروں نے اب تک عدالت کے فیصلے پر کسی تبصرے سے گریز کیا ہے۔

منظور پھنور کا بیان ایک اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ جرگہ اسلامی طریقہ ہے جس کے نتیجے میں متاثرین کو فوری انصاف ملتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس پابندی سے عوام کو ہی نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جرگوں کی وجہ سے خونریزی کے لاتعداد واقعات پر جرگہ بلا کر فریقوں کے درمیان تعلقات بحال کرائے ہیں جبکہ ان کے مقدمات عدالتوں کے سرد خانوں میں پڑے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد