BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 November, 2004, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقوں میں کیا تبدیلی آ رہی ہے

درہ خیبر
درہ خیبر ایک انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے
پاکستان نے افغان سرحد کے نزدیک قبائلی علاقوں میں فوج کی ایک بڑی تعداد تعینات کر رکھی ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ان علاقوں میں القاعدہ کے سینکڑوں افراد چھپے ہوئے ہیں اور شاید اسامہ بن لادن بھی۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے متعلق کچھ رومانوی خیالات رکھنا بڑا آسان ہے۔ قبائلی ایک قدیم نظام کے تحت رہ رہے ہیں۔ اپنی دلیرانہ مدافعت کی وجہ سے انہوں نے کئی طاقتور دشمنوں کو شکست دی ہے۔

سن 1842 میں برطانوی فوج کا 17,000 افراد پر مشتمل دستہ برف باری کے دوران کابل سے آتے ہوئے درہ خیبر سے گزر رہا تھا کہ قبائلیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ کہتے ہیں کہ پورے دستے میں سے صرف ایک ولیم برائڈن نام کا ڈاکٹر زندہ بچا تھا۔

قبائلی پاکستان حکومت کی ان کے علاقے میں مداخلت کے خلاف بھی مزاحمت کرتے رہے ہیں۔

ان کی صرف بڑی شاہراہوں پر ہی پاکستان کا قانون ہوتا ہے اور ذرا سا شاہراہ سے نیچے اتریں تو قبائلیوں کا جرگہ آپ کے مقدر کا فیصلہ کرتا ہے۔

قبائلی علاقوں میں گھروں کے ارد گرد اونچی اونچی دیواروں ہوتی ہیں جس سے یہ گھر قلعوں جیسا تاثر دیتے ہیں۔

اور چونکہ اکثر کھیتی باڑی نہیں کر سکتے اس لیے وہ سمگلنگ کرتے ہیں جس کو وہ سرحد پار تجارت کا نام دیتے ہیں۔

افغانستان میں پیدا ہونے والی زیادہ تر منشیات ان ہی قبائلی علاقوں سے ہو کر مغربی ممالک پہنچتی ہیں۔

قبائلی علاقوں میں اب بھی صدیوں پرانے اصول رائج ہیں: بدلہ، عزت، مہمان نوازی، اور عورت کے متعلق پرانے خیالات۔

قبائلی
قبائلی طرزِ زندگی بھی آہستہ آہستہ بدل رہا ہے

ایسا سوچا جا سکتا ہے کہ اتنے عرصے تک اپنا طرز زندگی محفوظ رکھنے کے بعد قبائلی مستقبل میں بھی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتے رہیں گے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

قبائلی نظام میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں۔

پہلے کئی علاقوں میں یہ ہوتا تھا کہ اگر کسی شخص پر جرم کرنے کا الزام ہو تو اسے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے دہکتے ہوئے کوئلوں پر چلنا پڑتا تھا۔ لیکن بلوچستان کے ایک مشہور اور قابلِ عزت سردار عطا اللہ مینگل کہتے ہیں کہ اب وقت بدل رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بچیوں کو زیادہ نہیں پڑھایا اور اب وہ اس پر شرمندہ ہیں۔

اور دوسری طرف محمد جیسے لوگ بھی ہیں جو بہت ہی دور افتادہ اور مزاحمتی علاقے وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں۔

محمد بائس سال کے نوجوان ہیں اور تین سال پہلے طالبان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑتے ہوئے امریکیوں نے انہیں گرفتار کر کے گوانتانامو بے بھیج دیا تھا۔ ایک سال گوانتانامو میں رکھنے کے بعد انہیں پاکستان بھیج دیا گیا جہاں وہ اب جیل میں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ ہماری مسجدوں پر بم برسا رہے تھے اور ہمارے بچے ہلاک کر رہے تھے‘۔

مجھے وہ بہت مطمئن اور پر عزم نہیں آئے۔ مجھے اس سے ڈر بھی لگا۔ کیونکہ میں اس کے ہاتھوں اغوا نہیں ہونا چاہتا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جب وہ قید سے رہا ہو گا وہ جہاد کے لیے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کرے گا۔

پاکستانی فوجی
وزیرستان میں ہزاروں پاکستانی فوجی تعینات کیے گئے ہیں

محمد قبائلی کلچر کی سفاکی اور اسلامی شدت پسندی کا امتزاج ہیں اور یہ ایک خطرناک مرکب ہے۔

وزیرستان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ریڈیکل اسلام کتنا طاقتور ہو سکتا ہے۔

امریکی دباؤ کے اندر گزشتہ ایک سال سے پاکستان نے اپنے ہزاروں فوجی وہاں تعینات کیے ہوئے ہیں اور اس علاقے میں چھپے ہوئے القاعدہ کے سینکڑوں مشتبہ افراد کو باہر نکالنے لیے فضائی بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

صدر بش کے دوبارہ امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

وزیرستان کے باسیوں نے بھی اس کا جواب بہت سخت دیا ہے۔ نوجوان وزیریوں کی حمایت سے غیر ملکی شدت پسندوں نے سینکڑوں پاکستانی فوجی ہلاک کر دیے ہیں۔ اور قبائلی سردار اپیلیں کرنے کے علاوہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکے۔

لیکن مقامی وزیری بات کرنا نہیں چاہتے۔ علاقے کے مولویوں کے کہنے سے متاثر ہو کے وہ لڑائی کا عزم رکھتے ہیں۔

وزیرستان کے مارکیٹوں میں ایک گانا بہت مقبول ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فوج کے طاقت کے استعمال کے فیصلے کے کتنے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

گانے کے بول ہیں: ’وزیرستان ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور ہر ٹکڑا اسلام کا علم بلند کرے گا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد