BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 June, 2005, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہائی کورٹ پابندی کے باوجود جرگہ

جتوئی مہر جرگہ، فائل فوٹو
دونوں قبائل مجموعی طور پر چوراسی لاکھ روپے جرمانہ ادا کریں گے۔ (فائل فوٹو)
وزیر اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں منعقدہ ایک جرگے میں مہر جتوئی قبائلی جھگڑے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ جرگے میں فی ہلاک شدہ کی تین لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیاگیا۔ دونوں قبائل مجموعی طور پر چوراسی لاکھ روپے جرمانہ ادا کریں گے۔

سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں ایسے تمام جرگوں پر پابندی عائد کردی تھی جو عدالتی اختیارات حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اس عدالتی فیصلے کے باوجود سندھ میں دو درجن سے زائد جرگے منعقد ہو چکے ہیں جن میں قتل، کارو کاری جیسے سنگین مقدمات کے فیصلے کئے جا چکے ہیں۔ ان جرگوں میں صوبائی وزرا، اسمبلی اراکین شرکت کرتے رہے ہیں۔

 سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اپریل میں ایسے تمام جرگوں پر پابندی عائد کردی تھی جو عدالتی اختیارات حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اس عدالتی فیصلے کے باوجود سندھ میں دو درجن سے زائد جرگے منعقد ہو چکے ہیں جن میں قتل، کارو کاری جیسے سنگین مقدمات کے فیصلے کئے جا چکے ہیں

مہر جتوئی تنازعہ گزتہ سترہ سال سے جاری تھا۔ جس کے تصفیے کے لیے یہ چھٹا جرگہ تھا۔

وزیر اعلیٰ کے دباؤ کے باوجود جتوئی قبیلے کے تین گروپوں کمالانی، خروس اور تڑت نے شرکت نہیں کی۔

اتوار کی شام سکھر سرکٹ ہاؤس میں وزیر اعلی سندھ کی زیر نگرانی مہر جتوئی جرگے میں جاری خون ریز تصادم کا تصفیہ ہوگیا۔

فیصلے میں ثالث کی حثیت سے صوبائی وزیر منظور پنہور، جمیعت علمائے سندھ اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما خالد محمود سومرو، مہر قبیلے کی جانب سے سردار علی گوہر مہر، وفاقی وزیر غوث بخش مہر، اور جتوئی قبیلے کی جانب سے سردار خادم حسین جتوئی، رکن قومی اسیمبلی ڈاکٹر ابراہیم جتوئی، ایم پی اے عابد جتوئی، اور دیگر قبائلی سرداروں نے شرکت کی۔

فیصلے کی تفصیلات خالد محمود سومرو نے پڑھ کر سنائیں۔

خالد محمود سومرو نے بتایا کہ جرگے میں مہر اور جتوئی قبائل کے مشیروں نے اپنے اپنے فریق کے ہلاک شدگان، زخمیوں اور نقصانات کی تفصیلات پیش کیں۔ فیصلے میں مہر اور جتوئی قبیلوں کے چودہ چودہ افراد کی ہلاکت ایک دوسرے پر ثابت ہوئی۔ جس کے لیے تین لاکھ روپے فی ہلاک شدہ کے لیے بیالیس لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیاگیا۔

مولانا سومرو کے مطابق دونوں فریقین یہ رقم نومبر تک ڈی سی او سکھر کے پاس جمع کرائیں گے۔

فیصلے کے مطابق جھگڑے میں پہل کرنے والے فریق کے خلاف دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائےگا۔

جرگے کے بعد سکھر سرکٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ قبائلی جھگڑوں کے خاتمے کے لیے جلد ایک بِل اسمبلی میں پیش کرینگے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی جھگڑوں کے حل کے لیے کورٹ بھی بنائی جا سکتی ہے۔

اس موقع پر سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد سے تین سو سے زائد پولیس نفری دونوں متحارب گروپوں کے لوگوں کو بحفاظت جرگے کے مقام پر پہنچانے کے لیے طلب کی گئی تھی۔

اس جھگڑے میں دونوں فریقین کے لوگوں کے علاوہ آٹھ راہگیر یا ایسے افراد جن کا نہ دونوں برادریوں سے کوئی تعلق نہیں تھا قتل ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد