قبائیلی کونسلر: استعفٰی کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قبائلی علاقوں میں گزشتہ دنوں قائم کی گئیں ایجنسی کونسلوں کے اراکین نے اتوار کے روز پشاور میں حکومت سے اختیارات کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کے اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ مستعفی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں قبائلی علاقوں کے باشندوں کو شکایت رہی ہے کہ ہر حکومت نے اس کے ساتھ اصلاحات کا وعدہ تو ضرور کیا لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی اس سلسلے میں ابتدا میں دعوے تو بہت کئے لیکن علاقائی صورتحال کو وجہ بتاتے ہوئے اسے اپنے منصوبوں کو موخر کرنا پڑا تھا۔ کافی تاخیر اور ان کے کردار کے بارے میں ابہام کے باوجود ایجنسی کونسلوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ قبائل نے اراکین منتخب یا نامزد کئے اور بس۔ اس کے بعد عام تاثر یہ ہے کہ ان کونسلوں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ تمام سات قبائلی ایجنسیوں کے اراکین نے اتوار کے روز پشاور پریس کلب میں ایک اجلاس میں حکومت سے انہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم ترقیاتی منصوبوں کا ہی اختیار عطا کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔ اراکین کا موقف تھا کہ اختیارات کے نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر یہ کونسلیں تو بنا دی گئیں لیکن نہ تو ان کا کوئی سربراہ بنایا گیا اور نہ ان کو کوئی اختیار دیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے پولیٹکل ایجنٹس سے مالی اختیارات ان کونسلوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ قبائلی کونسلروں نے دھمکی دی کہ اگر اختیارات نہ دیے گئے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ اپنے مطالبات کے حق میں ایک باقاعدہ تحریک چلانے کے لئے قبائلی اراکین نے ایک اتحاد بھی اس موقعے پر تشکیل دیا اور حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان کی شنوائی نہ ہوئی تو وہ تمام قبائلی علاقوں میں احتجاجی تحریک شروع کر سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||