قبائلی علاقوں میں طالبان سرگرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جس وقت سعودی عرب میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) کے رہنماؤں سے خطاب کے دوران یہ دعوی کر رہے تھے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کر رہا ہے اور قبائلی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کردیےگۓ ہیں عین اسی دن جنوبی اور شمالی وزیرستان میں تین مختلف واقعات میں تقریبا سولہ افراد ہلاک اور چالیس کے قریب زخمي ہوگۓ۔ جنڈولہ میں زبردست دھماکے نے بارہ لوگوں کی جانیں لیں اور چالیس کو زخمی کر دیا۔اسکے علاوہ نیم فوجی دستے کے چار اغواء شدہ اہلکاروں میں سے دو کی لاشیں وانا میں ملیں اور دو تاحال غائب ہیں۔ لیکن ان تمام واقعات میں سب سے خوفناک اور خطرناک شمالی وزیرستان کے مرکز میران شاہ کے قریب درپہ خیل کے مقام پر مبینہ طالبان کا وہاں پر موجود جرائم پیشہ گروپ کے خلاف آپریشن ہے جو اب بھی جاری ہے۔ اس آپریشن کے دوران چار طالبان کے علاوہ درپہ خیل میں حکیم گروپ کے تقریبا انیس ساتھی طالبان کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔ میران شاہ کے قریب درپہ خیل بیک وقت مبینہ عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور حکومت نے ماضی میں دونوں کیخلاف آپریشن کیے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ حکومت کو جز وقتی کامیابی مل تو جاتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد دونوں پھر سے سرگرم ہوجاتے ہیں۔ درپہ خیل میں مبینہ طالبان کے آپریشن اور افغانستان میں ملا عمر کی سربراہی میں سنہ انیس سو چھیانوے میں قندھار سے اٹھنی والی تحریک میں تین اہم چیزیں مماثلت رکھتی ہیں۔ افغانستان میں مرکزی حکومت کی عدم موجودگی میں ہر دو کلومیٹر پر جنگی سالاروں کی چیک پو سٹ ہوتی اور ہر ایک سے ٹیکس وصول کیا جاتا۔چوری ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کے واقعات بڑھ گئےتھے۔ اسی طرح کے حالات پاکستان کے قبائلی علاقوں میں وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ آئے دن ڈکیتی،اغواء ،مبینہ شدت پسندوں اور پاکستان فوج کے درمیان جھگڑوں میں عام لوگوں کو جانی اور مالی نقصان نے وہاں پر ایک غیر یقینی کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ شمالی وزیرستان میں مبینہ طالبان کا آپریشن بھی رپورٹوں کے مطابق اس وقت شروع ہوا جب جرائم پیشہ حکیم گروپ کے ساتھیوں نےگاڑی میں سوار عام لوگوں سے غنڈہ ٹیکس کا مطالبہ کیا۔ انکار کرنے پر ڈاکووں نے چار طالبان کو قتل کردیا جواب میں علاقے میں موجود طالبان نے ڈاکووں کیخلاف آپریشن شروع کردیا جو اب بھی جاری ہے۔ افغانستان میں طالبان کو جنگی سالاروں کے خلاف جنگ میں عام افغانوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ اسی طرح شمالی وزیرستان سے آنے والے اطلاعات کےمطابق مـبینہ طالبان کی طرف سے حکیم گروپ کیخلاف آپریشن کو کامیاب دیکھ کر عام لوگوں نے مٹھائیاں اور پیسے بانٹنے شروع کر دیے اور یہاں تک کہ میران شاہ کے آس پاس علاقوں لاچی، رزمک،ٹانک اور میر علی سے سینکڑوں کی تعداد میں عام قبائلیوں نے کامیاب آپریشن کو دیکھنے کے لیے درپہ خیل کا رخ کیا۔ افغانستان میں طالبان تحریک کو قندھار میں جیسے ہی کامیابی ملی تو انہوں نے اپنی حکومت کو وسعت دینے کیلیے افغانستان کے باقی علاقوں کی طرف پیش قدمی کی۔ اس قسم کی حکمت عملی شمالی وزیرستان میں بھی دیکھنے کو ملی جب تازہ رپورٹوں کے مطابق مبینہ طالبان ڈاکووں کے خلاف آپریشن کا دائرہ شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں کی طرف بڑھاتے ہوئے درپہ خیل سے تیئس کلومیٹر مشرق کی جانب میرعلی پہنچ گئے جہاں ڈاکوؤں کے دو اور ساتھیوں کو گرفتار کر کے ان کے سر کاٹ دیےاور لاشیں بجلی کے کھمبے پر لٹکا دیں۔ اس کےعلاوہ طالبان نے گزشتہ روز جن افراد کو قتل کیا ان کی بھی لاشیں لٹکا دیں اور ان کے منہ اور ناک میں سگریٹ اور نوٹ ٹھونس دیے۔ افغانستان میں طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کر تے وقت اقوام متحدہ کے دفتر میں افغانستان کے سابق کیمونسٹ صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کو اپنے بھائی شاہ پور احمد زئی کے ہمراہ قتل کرکے انکی لاشیں کابل چاسو میں لٹکا دیں اور ان کے منہ اور ناک میں بھی سگریٹ اور نوٹ ٹھونس دیے تھے۔ پاکستان نے گزشتہ دو سالوں میں القاعدہ اور طالبان کے مشکوک جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کے لیے تقریبا ستر ہزار فوجی تعینات کیے ہیں لیکن قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں اور مبینہ شدت پسندوں کی جانب سےطالبان طرز کی نئی حکمت عملی جنہیں عام لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہے ایک ایسا چیلنج ہے جس پر بظاہر ایسا لگتا ہے حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ | اسی بارے میں ’چوبیس طالبان ہلاک‘15 July, 2005 | پاکستان مشتبہ طالبان کی نعروں میں تدفین16 July, 2005 | پاکستان غیر ملکی طلبہ کی واپسی کی اپیل 24 September, 2005 | پاکستان طالبان کی لاشیں جلانے کی تحقیقات 20 October, 2005 | پاکستان عسکریت پسندوں سے معاہدہ 28 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||