طالبان کی لاشیں جلانے کی تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان دعووں کی تحقیقات کر رہی ہے کہ امریکی فوجیوں نے دو طالبان شدت پسندوں کی لاشیں سرِعام نذرِ آتش کر دیں تھیں۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک آسٹریلوی ٹی وی نے ایک فلم جاری کی جس میں مبینہ امریکی فوجیوں کو طالبان کی لاشوں کو آگ لگاتے دکھایا گیا ہے۔ اس فلم میں دیگر فوجی مقامی افراد پر طعنہ زنی کرتے اور ان پر طالبان کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی فوج نے لاشیں جلانے کے عمل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ فوجی ترجمان میجر جنرل جیسن کیمیا کا کہنا تھا کہ’ یہ ایک گھناؤنا عمل ہے جو ہماری روایات اور ہدایات کے برعکس ہے اور حکام کی جانب سے اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے‘۔ امریکی فوجیوں نے ابتدائی طور پر کہا ہے کہ انہوں نے حفظانِ صحت کے اصول کے تحت ان لاشوں کو جلایا۔ یاد رہے کہ مذہب اسلام میں لاشوں کو جلانا ان کی بے حرمتی تصور کی جاتی ہے۔ آسٹریلوی کیمرہ مین سٹیفن ڈیو پونٹ نے یہ فلم قندھار کے نواحی علاقےگنباز میں بنائی ہے اور اس فلم میں پانچ فوجیوں کو ایک چٹان پر کھڑے دکھایا گیا ہے جو دو لاشوں کو جلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اس فلم میں امریکی فوجیوں کو ایک پیغام بھی پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان بزدل کتے ہیں اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کو مغرب کی طرف منہ کیے جلنے دیا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||