افغان وزیرِ دفاع پر قاتلانہ حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام نے وزیرِ دفاع جنرل عبدالرحیم وردک پر قاتلانہ حملے کے بعد نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں وزیرِ دفاع بچ گئے تھے۔ افغان وزیرِ دفاع کے قافلے کی ایک گاڑی پر جس کے بارے میں بظاہر ملزموں کا خیال تھا کہ وہ اس میں سوار ہیں، چار افراد نے گولیاں برسا دی تھیں۔ تاہم اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ بعد میں افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ عبدالرحیم وردک پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ اگلے ہفتے صوبائی اور پارلیمانی انتخابات سے پہلے ہونے والے واقعات ہی کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مسٹر وردک کو کابل ایئرپورٹ پر اتارنے کے بعد ان کی گاڑی واپس شہر جا رہی تھی۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان ظہیر عظیمی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے افغان فوج کی وردی پہن رکھی تھی۔ ایک علیحدہ واقع کے حوالے سے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکی اور افغانی فوج نے تقریباً تیس طالبان شدت پسند کو ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس حملے کے پسِ پردہ محرکات کیا تھے۔ عظیمی نے بتایا کہ وزیرِ دفاع کی گاڑی پر چار گولیاں ٹھیک اسی جگہ لگیں جہاں جنرل وردگ بیٹھتے ہیں۔ جنرل وردگ احمد شاہ مسعود کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پنجشیر وادی جا رہے تھے۔ احمد شاہ مسعود جنہوں نے طالبان کے خلاف مزاحمت کی تھی، چار سال پہلے ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ ایک دوسرے واقعے میں ملک کے فوجی سربراہ بسم اللہ خان اور ایک وزیر کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر پرواز کے فوراً بعد تباہ ہوگیا۔ تاہم دونوں اہلکاروں نے جلتے ہوئے ہیلی کاپٹر سے بھاگ کر جان بچائی اور بچ گئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||