کرزئی پر حملہ ہم نے کرایا تھا: طالبان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان کے نمائندوں نے کہا ہے کہ صدر حامد کرزئی کے ہیلی کاپٹر پر راکٹ کا جو حملہ ہوا وہ طالبان نے کرایا تھا۔ طالبان تحریک کے حامیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں صدراتی عہدے کے لیے انتخاب میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں پر حملے کیے جائیں گے۔ پکتیا صوبے میں گردیز کے قریب ایک ہوائی اڈے پر حامد کرزئی کا ہیلی کاپٹر اتر رہا تھا کہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد حامد کرزئی کے ہیلی کاپٹر کو وہاں نہیں اتارا گیا۔ صدر کرزئی نے پکتیا کے ہوائی اڈے پر راکٹ فائر کیے جانے کے بعد علاقے کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ انہوں نے صوبہ پکتیا کے شہر گردیز میں ایک سڑک کا افتتاح کرنا تھا۔ راکٹ فائر ہونے کی اطلاع ملتے ہی حامد کرزائی کے امریکی باڈی گارڈز نے فیصلہ کیا کہ حامد کرزئی کے ہیلی کاپٹر کو وہاں نہیں اترنا چاہیے اور کابل واپس چلے جانا چاہیے۔ کابل سے بی بی سی کے نمائندے اینڈریو نارتھ کے مطابق پکتیا صوبہ اکثر مشتبہ طالبان کے حملوں کی زد میں رہتا ہے۔ طالبان نے ملک میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کے دوران گڑ بر پھیلانے کا عزم کر رکھا ہے۔ خیال ہے کے راکٹ ہوائی اڈے سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر گرا جہاں حامد کرزئی کے ہیلی کاپٹر کو اترنا تھا۔ صدر کے ترجمان جاوید لودن نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ راکٹ فائر کرنے والوں کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا اور اس راکٹ حملے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی بھی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ امریکی فوج کے ترجمان نے اے پی کو بتایا کہ راکٹ اس جگہ سے صرف تین سو میٹر کے فاصلے پر گرا جہاں کرزئی کے ہیلی کاپٹر نے اترنا تھا۔ صدر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر کے امریکی پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز نے راکٹ کی آواز سنتے ہی وہاں پر نہ اترنے کا فیصلہ کیا اور ہیلی کاپٹر کا رخ کابل کی طرف موڑ دیا۔ نامہ نگاروں کے مطابق صدر گردیز کا دورہ نہ کر سکنے پر انتہائی مایوس ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ صدر کے امریکی گارڈز نے وہاں نہ اترنے کا فیصلہ کرنے میں اجلت سے کام لیا۔ صدر حامد کرزئی کو قندہار میں سن دو ہزار دو میں ہونے والے حملے کے بعد بہت کم ہی اپنے محل سے باہر نکلتے دیکھا گیا ہے۔ ان کے ناقدئیں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل کے باہر حامد کرزئی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے اور وہاں پر علاقائی جنگجو کمانڈروں کو کنٹرول حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||