BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 September, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: قبل از انتخابات تشدد
الیکشن سے قبل سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے
افغانستان میں اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل تشدد کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور ملک بھر میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق جنوبی افغانستان کے صوبے زابل میں پولیس کی گشتی پارٹی پر حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں سات مشتبہ طالبان ہلاک ہوگئے۔

کابل کے نواحی علاقے مسائی میں ایک حملے میں ضلعی پولیس افسر سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ افغان حکومت نے طالبان اور القاعدہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

افغانستان میں سکیورٹی افواج نے کئی شہروں میں متعدد افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ بارود بھی برآمد کیا ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی حکام نے بیس شدت پسندوں کو اس وقت وقت گرفتار کیا جو کہ ملک کے جنوبی حصے میں ایک بڑے ڈیم کو تباہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان محمدظہیر عظیمی نے بتایا کہ ان شدت پسندوں کی نشاندہی اس وقت ہوئی جب وہ ڈیم پر بم نصب کر رہے تھے تاہم دیگر حکومتی ذرائع اور امریکی فوج نے اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔

افغانستان سے بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل کے علاوہ دیگر شہروں میں کم گہما گہمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق الیکشن سے قبل سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ کابل کے ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم ہائی الرٹ پر ہیں اور دہشت گردوں کو کسی قسم کا موقع نہیں دینا چاہتے‘۔

یاد رہے کہ طالبان نے ان انتخابات کو درہم برہم کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجوں کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کارل ایکن بیری نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ شدت پسند پولنگ سٹیشنوں پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو غیر مسلح انتخابی عملے اور معصوم افغان عوام پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا‘، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتوار کو انتخابات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ تشدد ہوگا مگر انتخابی عمل جاری رہے گا‘۔

طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ’پولنگ سٹیشنوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا کیونکہ اس میں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے‘۔ اس اعلان کے باوجود حکام کے کہنا ہے کہ انہوں نے لگر صوبے میں ایک پولنگ سٹیشن کے قریب سے راکٹ برآمد کیے ہیں۔

افغانستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران سات انتخابی امیدواروں سمیت ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر افغان سرحد کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوج نے مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف اپنا آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان نے پاک افغان سرحد پر بھاری تعداد میں فوج پہنچا دی ہے تاکہ طالبان کو افغان سرحد عبور کر کے انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے سے روکا جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد