افغان ملیشیاء کمانڈر نااہل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اور صوبائی انتخابات میں اکیس سابق ملیشیاء کمانڈر کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیئے جانےکا امکان ہے۔ انتخابی قانون کے مطابق جن لوگوں کا مسلح گروہوں سے ماضی میں تعلق رہا ہے وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ان امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کا اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ تاہم انتخابات کے انعقاد سے قریب اس اعلان کے ممکنہ ردعمل پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ستمبر کی گیارہ تاریخ کو ہونے والے پارلیمانی اور صوبائی انتخابات کے لیے انتخابی مہم پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قوی امکان ہے کہ اکیس امیدواروں کو نااہل قرار دیا جائے لیکن ان کی تعداد میں ردوبدل ممکن ہے۔ حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ نااہل قرار دیے جانے والے امیدواروں کے ناموں کا اعلان الیکشن سے ایک دن قبل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے ایک ماہ پہلے نشر ہونے والی اس خبر کی تصدیق کی۔ ان انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز پہلے ہی چھاپے جاچکے ہیں اور نااہل قرار دیے جانے والے امیدواروں کا نام بیلٹ پیپر پر موجود ہو گا اور لوگ ان کو ووٹ بھی دے سکتے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ان میں بعض پارلیمانی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ حاصل کرنے لیے ووٹوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسطرح کامیاب ہونے والے امیدوار عدالتوں کا رخ کر سکتے ہیں اور یوں تمام انتخابی عمل ہی ابتری کا شکار ہو جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||