اپنے ملک سےافغانی کیا چاہتے ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسد خیل، افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں واقع ایک ایسا گاؤں ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ افغان خانہ جنگی کے دوران اس گاؤں کے کئی گھروں اور انگور کے باغوں کو طالبان نے نذرِ آتش کر دیا تھا۔ ’افغانستان میں ایک دن‘ کے حوالے سے بی بی سی کے نامہ نگار سوتیک بسواس نے اس گاؤں میں ایک دن گزارا اور گاؤں کے مکینوں سے ان کی روزمرہ زندگی اور افغانستان کے مستقبل سے ان کی توقعات کے بارے میں باتیں کیں۔ اسد خیل کے اکثر لوگ پہلے بھی انگور کے باغات میں کام کرتے تھےاور اب بھی باقی ماندہ باغات میں کام کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے باغات جل جانے کے بعد کام کم ہو گیا ہے اور جن لوگوں کو باغات میں کام نہیں ملتا وہ دوسری محنت مزدور کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی لگاتے ہیں ان کی روزیی کا سارا انحصار ان لوگوں پر ہوتا ہے جو دارالحکومت کابل جانے کے لیے اس شاہراہ سے گزرتے ہیں جس پر اسد خیل واقع ہے۔ گاؤں کے لوگ صبح سویرے اٹھ جاتے ہیں اور اپنے جانوروں کو چارہ ڈالنے سے پہلے، جن میں زیادہ تر گائیں، بھیڑیں اور بکریں ہوتی ہیں، فجر کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ناشتہ کیا جاتا ہے جس سردیاں ہوں تو کالی اور گرمیاں ہوں تو سبز چائے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد شروع ہوتا ہے کاروبارِ زندگی، سب اپنے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اور انہی میں گل خان بھی شامل ہے جب کے پاس کوئی باقاعدہ کام نہیں ہے۔ گل خان سارا دن گاؤں میں گھومتا ہے اور جہاں جس کو ضرورت پڑتی ہے اس کا ہاتھ بٹاتا اور اسی کے بدلے میں اسے کچھ نہ مل جاتا ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسے دن بھر کچھ نہیں ملتا۔ اسد خیل سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ایک پرائمری سکول بھی جو اس گاؤں کے تمام بچوں کو سمیٹنے کے لیے تین شفٹوں میں کام کرتا ہے۔اس کے علاوہ اس سکول سے ذرا فاصلے پر ایک ہائی سکول بھی ہے۔ اس گاؤں کے شکراللہ سے جب سوئٹزر لینڈ کے وکٹر سٹینر نے پوچھا کہ وہ اگلے پانچ سال میں افغانستان سے کیا چاہتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا : ’بجلی آنی چاہیے، کنویں کھدنے چاہیں اور اساتذہ کی تنخواہیں بڑھنی چاہیں۔ امریکہ کی میری ہیٹر کے اس سوال کے جواب میں کہ امریکی سالاری میں افغانستان پر ہونے والی کارروائی کے بعد سے افغان زندگی کا سے اچھا اور خراب پہلو کیا؟ شکراللہ بتاتے ہیں: اب میں سکول جا سکتا ہوں۔ میں خود اپنے ملک میں ہوں۔ پہلے میں پاکستانی پناہگزین کیمپ میں تھا لیکن اب اپنے ملک میں ہوں اور یہاں کام کر سکتا ہوں۔ حالانکہ یہاں کی معاشی حالت زیادہ خراب ہے۔ عمر صدیقی، نیویارک سوال: حاجی عبداللہ صاحب، طالبان کے دور میں صوفیائے کرام کی درگاہوں پر جانے پر پابندی تھی۔ افغانستان میں تصوف کی ایک طویل اور توانا روایت ہے۔ آپ کے خیال میں کیا صوفیاء کے پیغام کو پھیلا کر ہم افغانستان میں اصلاح کا کام کر سکتے ہیں؟ جواب: جس طرح تعلیم افغانستان کا ایک اہم مسئلہ ہے، اِسی طرح اسلام کی صحیح سمجھ بھی افغان عوام کیے لیے ضروری ہے۔انہوں نے ابھی تک اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھا۔ انتہا پسندی اور لبرل ازم دونوں اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں کرتیں۔ اسلام میں میانہ روی کو ترجیح دی گئی ہے اور درمیانے راستے کو اپنا کر ہی آپ صحیح مسلمان بن سکتے ہیں۔لوگوں نے ابھی تک قرآن کی صحیح سمجھ کے فوائد کو نہیں سمجھا۔ ضروری نہیں کہ تصوف اسلام کی اصلاح میں کوئی کردار ادا کرے۔ روڈرک ایل مُلیں، نارتھ کیرولینا، امریکہ سوال: آپ کے ساتھ سب سے بڑی نیکی کس نے کی؟ جواب: جب میں پاکستان میں ایک مہاجر کی حیثیت سے رہ رہا تھا تو وہاں میری ایک دوست تھی۔ وہ مجھے پھل، مٹھائیاں دیا کرتی تھی اور میرے ساتھ کھیلتی تھی۔ اس نے میرے پہ بہت نیکیاں کیں۔ جوناتھن برٹن، آسٹن، امریکہ سوال: تمھارے گاؤں کے لوگوں کی امریکی حکومت کے بارے میں کیا رائے ہے؟ جواب: امریکی حکومت کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھے ہے۔ ہم امریکی حکومت کی طرف سے دی جانے والے مدد سے بہت مطمئن ہیں۔ ہمیں ابھی تک امریکی امداد مل رہی ہے۔ کوئی بھی امریکی امداد کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ واضمہ، وینکوور، کینیڈا کیا افغانستان کی موجودہ حکومت اور طالبان حکومت کے درمیان کوئی بڑا فرق ہے؟ جواب: طالبان کے بعد زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ طالبان کے دور جنگ کے سے حالات تھے اور جمہوری حقوق نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اب سکیورٹی ہے، امن ہے اور زندگی اب طالبان کے دور سے بہتر ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||