BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 September, 2005, 19:45 GMT 00:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر ملکی طلبہ کی واپسی کی اپیل

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ
’نئے آنے والے طلبہ پر بھی پابندی نہ لگائی جائے‘
پاکستان میں مداراس کی تنظیم نے غیر ملکی طلبہ کو اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان سے نہ جائیں اور جو جاچکے ہیں وہ واپس آکر اپنی تعلیم مکمل کریں۔ تنظیم حکومت سے معاملات طے کر لیگی۔

وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے بعد وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا حنیف جالندھری، مفتی محمد نعیم اور ڈاکٹر مولانا الیاس نے کراچی میں ہفتے کی شام ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا کہ جن غیر ملکی طلبہ کے پاس ویزے اور این او سی ہیں ان کو تعلیم جاری رکھنے دی جائے اور ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے آنے والے طلبہ پر بھی پابندی نہ لگائی جائے۔

مولانا حنینف جالندھری کے مطابق وزیر اعظم نے یقین دہانی کروائی کہ اس مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کیا جائیگا۔

انہوں نے بتایا کہ مدارس میں چھٹیاں ہیں ملکی اور غیر ملکی طلبہ جا چکے ہیں مگر کسی بھی غیر ملکی طلب علم نے داخلہ منسوخ نہیں کروایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب چھٹی ہوتی ہے تو طالب آزاد ہوتا ہے۔ کچھ یہاں ہی رہ جاتے ہیں اور شارٹ کورسز کرتے ہیں اور کچھ چلے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس جانے والے طلب علموں کے تصدیق شدہ اعداد نہیں ہیں‘۔

مولانا جالندھری نے کہا کہ جو غیر ملکی طلبہ پاکستان میں موجود ہیں اور ذاتی ضرورت کے لیے اپنے ملک جانا چاہتے ہیں تو ضرور جائیں۔ ’اگر وہ اس وجہ سے جانا چاہتے ہیں کہ پاکستان حکومت ان کو ڈی پورٹ کردے گی تو وہ نہ جائیں۔ ہم مسئلے کو حل کرلینگے۔ جبکہ جو طالب جا چکے ہیں اور ان کی تعلیم باقی ہے وہ واپس آجائیں اور اپنی تعلیم مکمل کریں‘۔

انہوں نے پر امید انداز میں کہا کہ وہ حکومت سے معاملات طے کرلینگے۔ مولانا جالندھری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جب معاملات طے ہوجائیں تو سفارتخانوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ غیرملکی طلبہ کے ویزے جاری کیے جائیں تاکہ ان کو پریشانی نہ ہو‘۔

مولانا جالندہری کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں ہیں جو دینی مدارس اور حکومت میں تصادم کروانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے غیر ملکی طلبہ کے کوائف طلب نہیں کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کی ہے اور ان کو مدرسوں کے دورے کی دعوت دی ہیں اور کہا ہے کہ ہم سے ون ٹو ون ملاقات کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف بھی جلد مدرسوں کا دورے کرینگے۔

مدرسوں کی اسناد کے بارے میں عدالتی فیصلے کے بارے میں مولانا جالندھری نے کہا کہ اسناد کوسیاسی مسائل کی بھینٹ چڑھانا یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا غلط ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد