’مدارس کا اندراج نہیں کرائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تقریباً بارہ ہزار مدارس کو چلانے والے دینی مدارس بورڈ کے اتحاد نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے گذشتہ ماہ جاری ہونے والے ترمیمی آرڈیننس کے تحت مدارس کے اندراج سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک اس آرڈیننس کے بارے میں مدارس کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا مدارس اندراج نہیں کروائیں گے۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ان مدارس کو اس سال دسمبر تک اندراج کرانے کی مہلت دی ہے۔ پاکستان کےپانچ مکاتب فکر کے تحت چلنے والے مدارس کی تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد کہا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر سوسائٹیز ایکٹ کے تحت اندراج کے لئے تیار ہیں مگر انھیں ترمیمی رجسٹریشن آرڈیننس موجودہ شکل میں قبول نہیں ہے۔ صحافیوں کو اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے اس اتحاد کے صدر مولانا عبدالمالک نے بتایا کہ نئے آرڈیننس میں کئ متنازعہ شقیں ہیں جن میں ان مدارس کی بندش جو اندراج نہیں کرواتے، مدارس کی طرف سے سالانہ آڈٹ اور عطیات دینے والوں کی تفصیل سمیت کئی ایسے معاملات شامل ہیں جو مدارس کی تنظیم کو قبول نہیں ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت مدارس کو عطیات دینے والے افراد کےنام معلوم کرکے ان کو مدارس کو عطیات نہ دینے کے لئے دھمکائے گی۔ صدرجنرل پرویز مشرف نے گذشتہ ماہ صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی نیا مدرسہ اندراج کئے بغیر کام نہیں کر سکے گا۔ اس آرڈیننس کے مطابق تمام مدارس کو اپنی سالانہ رپورٹیں مقامی رجسٹرار کے پاس جمع کروانا ہوں گی اور انہیں آڈیٹر کے ذریعے اپنا آڈٹ کروانا ہو گا اور اسے ہر سال رجسٹرار کے پاس داخل کرنا ہو گا۔ اس آرڈیننس کے تحت کوئی مدرسہ ایسا مواد پڑھا یا شائع نہیں کر سکے گا جس سے عسکریت،مذہبی انتہاپسندی اور فرقہ واریت کو فروغ ملے۔ حکومت کی طرف سے مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلبا کی ملک بدری کے حکم اور سپریم کورٹ کی طرف سے مدارس کے سند یافتہ افراد کو بلدیاتی انتخابات لڑنے کی اجازت نہ دینے کے بارے میں اتحاد کا کہنا ہے کہ غیر ملکی طلبا کی ملک بدری کے خلاف جلد ہی احتجاج کیا جائے گا۔ جبکہ مدارس کے منتظمین نے سپریم کورٹ کی طرف سے مدارس کے سند یافتہ افراد کو بلدیاتی انتخابات نہ لڑنے پر صدر اور وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ مدارس کی اسناد کی منظوری کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ گذشتہ ماہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق کا کہنا ہے کہ مدارس دینی تعلیم کے علاوہ ملک کے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی عصری تعلیم دینے پر راضی ہو گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||