BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 September, 2005, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ذریعہ آمدن بتانا ضروری نہیں‘

مدرسہ
حکومت رجسٹرڈ مدارس کے نئے سرے سے اندراج کرانے اور ذرائع آمدن ظاہر کرنے کے موقف سے دستبرادر ہوگئی ہے جس پر فریقین میں اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔

جمعہ کے روز وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے بعد اتحادِ تنظیمات مدارسِ دینیہ پاکستان کے ترجمان مفتی منیب الرحمٰن اور مذہبی امور کی وزارت کے سیکرٹری وکیل احمد خان نے تصدیق کی ہے کہ اب صرف غیر رجسٹرڈ مدارس اپنا اندراج کرائیں گے اور سالانہ حسابات اور تعلیمی سرگرمیوں کے متعلق رپورٹیں پیش کریں گے۔

فریقین کے نمائندوں کے مطابق ذرائع آمدن کی تفصیل بتانے کی مدارس پر پابندی نہیں ہوگی۔

وزارت مذہبی امور کے سیکریٹری وکیل احمد خان کی موجودگی میں اتحادِ تنظیمات مدارسِ دینیہ پاکستان کے ترجمان مولانا مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ جو مدارس پہلے سے رجسٹر ہیں وہ دوبارہ اپنا اندارج نہیں کرائیں گے۔

ادھر سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے وزیراعظم سے مدارس کے نمائندوں کی ملاقات کے بارے میں جاری کردہ خبر میں یہ تاثر دیا ہے کہ مدارس کے نمائندے تمام مدرسوں کے اندراج کے لیے راضی ہوگئے ہیں۔

مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جو مدرسے حکومت کے پاس رجسٹر نہیں ہیں وہ اپنا اندراج رواں سال دسمبر تک کرانے کے پابند ہوں گے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے بتایا کہ وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ متعلقہ قوانین میں کی گئی حالیہ ترمیم کے تحت فرقہ وارانہ تعلیم دینے یا کسی اور شق کی بنا پر حکومت مدارس کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سالانہ آمدنی اور اخراجات کی آڈٹ رپورٹ حکومت کو فراہم کریں گے۔ جب ان سے ذرائع آمدن بتانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پیشہ ور بیان باز دوست حقیقت کو جانے بغیر بیان داغ دیتے تھے۔ ان کے مطابق حکومت کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔

وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری وکیل احمد خان نے کہا کہ مدرسوں کے اس اتحاد سے تیرہ ہزار مدارس ملحق ہیں لیکن ان میں سے حکومت کے پاس صرف چار ہزار رجسٹرڈ ہیں۔

ان کے مطابق ملک بھر میں سترہ ہزار مدارس ہیں جس میں سے چھ ہزار مدرسے رجسٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدرسوں کی تنظیم سے وابستہ اور دیگر غیر رجسٹرڈ مدرسے اکتیس دسمبر تک اپنا اندراج کرائیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت تمام مدارس کے دوبارہ اندراج اور ذرائع آمدن فراہم کرنے والے اپنے موقف سے ہٹ گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی بات نہیں ہے بس اب معاملات طے ہوگئے ہیں اور مدارس اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔

اس موضوع پر جب ان سے مزید سوالات کیے گئے تو سیکرٹری نے کہا کہ آپ کی خواہش ہوگی کہ مجھ سے یہ کہلوائیں کہ حکومت دستبرادر ہوگئی ہے لیکن وہ ایسا نہیں کہیں گے۔

ادھر سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دیگر عام نصاب کی تعلیم سے طلباء کو ملازمتوں کے مواقع ملیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مدارس مذہبی یا فرقہ وارانہ تعصب کی تعلیم نہیں دیتے لیکن اگر کسی نے منفی تعلیم دی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وفاق المدارس السلفیہ پاکستان ( اہل حدیث ) کے ناظم اعلیٰ مولانا نعیم الرحمٰن نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اور ان کی تنظیموں کے اتحاد میں اتفاق رائے ہوا ہے کہ حکومت رجسٹر شدہ مدرسے کو دوبارہ رجسٹر کرانے اور ذرائع آمدن ظاہر کرنے کے لیے پابند نہیں کرے گی۔

ان کے مطابق حکومت ذرائع آمدن ظاہر کرنے اور تمام مدارس کے دوبارہ اندراج والے موقف سے دستبردار ہوئی ہے اس لیے اب ان کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد