اندراج پر مدارس کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تقریباً بارہ ہزار مدارس کو چلانے والے دینی مدارس بورڈ کا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں حکومت کی طرف سے مدارس کی رجسٹریشن، مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلباء کی ملک بدری کے حکم اور سپریم کورٹ کی طرف سے مدارس کے سند یافتہ افراد کو بلدیاتی انتخابات لڑنے کی اجازت نہ دینے کے بارے میں حتمی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان جو تمام فرقوں کے تحت چلنے والے مدارس کی نمائندہ تنظیم ہے کے ایک عہدیدار حنیف جالندھری نے بی بی سی کو بتایا کہ مدارس کی انتظامیہ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ حکومت کی طرف سے اس سال دسمبر تک اندراج کے لیے دی گئی مہلت کوتسلیم کریں گے یا نہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں مدارس میں عسکریت اور فرقہ واریت پھیلانے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق کا کہنا ہے کہ مدارس دینی تعلیم کے علاوہ ملک کے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی عصری تعلیم دینے پر راضی ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویزمشرف نےگزشتہ ماہ سرکاری ٹیلیوژن پر اپنے خطاب میں دینی مدارس کو اس سال دسمبر تک رجسٹریشن کرانے کی مہلت دی تھی۔ مدارس کی رجسٹریشن کے بارے میں صدارتی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ مدارس کو رجسٹریشن کے علاوہ اپنا سالانہ آڈٹ بھی کروانا ہوگا اور مدارس کو دیے جانے والے عطیات کے بارے میں بھی حکومت کو آگاہ کرنا ہوگا۔ مدارس اس شق کی مخالفت کر رہے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس برس جولائی میں ان مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلباء کو بھی ملک سے چلے جانے کو کہا تھا جس کی مدارس کی تنظیم نے مخالفت کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||