وانا تحصیلدار کی گاڑی میں دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں سوموار کی صبح جنوبی وزیرستان انتظامیہ کے ایک اہلکار کی گاڑی بم دھماکے میں تباہ ہوگئی تاہم اس میں سوار تحصیلدار محفوظ رہا۔ ادھر شمالی وزیرستان میں لاپتہ صحافی کے قبیلے نے حکومت کو اس کی بازیابی کے لیے چوبیس گھنٹوں کی مہلت دی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مطابق وانا کے تحصیلدار محمد وصال کی گاڑی میں نامعلوم افراد نے بم نصب کیا تھا جو آج صبح ہمت علاقے سے ڈیرہ بازار آتے ہوئے راستے میں پھٹ گیا۔ دھماکے سے گاڑی بری طرح تباہ ہوگئی البتہ تحصیلدار کو معمولی چوٹیں آئیں۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے چند افراد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے مکان میں تحصیلدار نے کل رات بطور مہمان گزاری تھی۔ ادھر شمالی وزیرستان میں میر علی میں حرمز قبیلے کے جرگے نے حکومت کو صحافی حیات اللہ خان کی بازیابی کے لیے چوبیس گھنٹوں کی مہلت دی ہے۔ قبیلے کا کہنا ہے کہ تین ہفتوں سے لاپتہ صحافی کے بازیاب نہ ہونے کی صورت میں وہ احتجاجی راستہ اپنائے گا جس دوران کسی ناخوشگوار صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ جرگے میں مولانا عجب خان، ملک جان بہار اور ملک احسان ولی سمیت کئی عمائدین نے شرکت کی۔ حرمز حیات اللہ کا اپنا قبیلہ ہے۔ ایک انگریزی اخبار ’دی نیشن’ اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے لئے کام کرنے والی شمالی وزیرستان کے صحافی حیات اللہ خان کو پانچ دسمبر کو میر علی بازار سے نامعلوم نقاب پوش افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ تاہم یہ کون لوگ تھے تین ہفتے گزر جانے کے باوجود معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: ایک پیچیدہ اور گنجلک مسئلہ24 December, 2005 | پاکستان وانا سے چار فوجی جوان اغواء07 December, 2005 | پاکستان بی بی سی صحافی کےگھرکےباہردھماکہ 16 December, 2005 | پاکستان پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ17 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||