باجوڑ: ملک گیر احتجاج کی کال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے ایک اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں ہلاک ہونے والوں میں ایمن الظواہری شامل نہیں ہیں کیوں کہ تمام اٹھارہ افراد کی شناخت ہوچکی ہے جو مقامی ہیں۔ وہ سنیچر کو لاہور میں جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر منصورہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جس جگہ پر امریکہ نے بمباری کی ہے وہ سرحد سے کوئی تیس کلومیٹر اندر پاکستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں وسیع میدان ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ جس جگہ بمباری ہوئی وہاں سے مقامی رکن قومی اسمبلی ہارون رشید کا گھر دو کلومیٹر دور ہے اور وہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور ان کی موجودگی میں ملبے سے لاشیں نکالی گئی ہیں۔ قاضی حسین احمد نے ہاتھ میں تھامی فہرست میں سے ہلاک شدگان کے نام پڑھ کر سنائے اور کہا کہ یہ کل اٹھارہ افراد ہیں جن میں سے گیارہ افراد بالغ اور سات بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی نصف سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے وہ متحدہ مجلس عمل کا اجلاس بلائیں گے اور پھر اس معاملہ کو ایوان میں اٹھایا جائے گا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے تمام مقامی افراد ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان اس بات کا اعلان کرے کہ ملک کی سرحد پار سے ان پر حملہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں اگر ہمت ہے تو وہ کم ازکم حملہ آوروں کو حملہ آور قراردے۔ مجلس عمل نے اتوار کو اس واقعہ کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||