باجوڑ:مدرسے پر فوجی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کی صبح ایک کارروائی میں ایک مدرسے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اس حملے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ صبح پانچ بجے باجوڑ کے صدر مقام خار کے شمال میں کی جانے والی اس کارروائی کے وقت مدرسے میں ستر سے اسی افراد موجود تھے۔ ان کے مطابق عمارت کو تباہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی جانی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے علاقے میں حکومت اور طالبان نواز قوتوں کے درمیان معاہدے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی مولانا محمد لیاقت کے انعام خرو چنگئی کے علاقے میں واقعے مدرسے کے خلاف کی گئی ہے۔ مولانا لیاقت کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی سے بتایا جاتا ہے۔ وہ حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب مولانا فقیر محمد کے ساتھی ہیں۔ اس کارروائی میں فوجی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا۔ ترجمان کے بقول مدرسے پر فضا سے ٹھیک ہدف پر مار کرنے والے ہتھیار استعمال کیئے گئے۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ مدرسے میں حملے کے وقت اسّی طالب علم موجود تھے جنہوں نے عید کی چھٹیوں کے بعد تعلیم کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ موقع پر موجود لوگوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے کے بعد انسانی جسم کے ٹکڑے ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ ’ہم نے جو کچھ دیکھا اس سے ہمیں دکھ ہوا ہے‘۔ صوبہ سرحد کے ایک وزیر سراج الحق نے حملے شدید مذمت کی اور کہا کہ وہ احتجاجاً مستعفی ہو جائیں گے۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ’مدرسے پر یہ حملہ بلا اشتعال تھا جس کی وارننگ نہیں دی گئی۔ یہ معصوم لوگ تھے‘۔ سنیچر کو ایک جلسے میں جس میں ہزاروں افراد شریک تھے مقامی جنگجؤوں نے اسامہ بِن لادن اور ملا محمد عمر کو اپنا ہیرو قرار دیا۔ جنگجؤوں نے حکومت کو افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں امن کے قیام میں اپنی مدد کی پیشکش بھی کی تھی۔ اسی سال جنوری میں امریکہ نے باجوڑ میں تین گھروں پر بمباری کر کے تیرہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ حملہ اس اطلاع پر کیا گیا تھا کہ ان مکانوں میں القاعدہ رہنما ایمن الزواہری موجود تھے۔ پاکستان نے اس حملے پر امریکہ سے احتجاج کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی حکام نے خیر سگالی کے لیے ایسے نو قبائلیوں کو رہا کیا تھا جن پر طالبان سے روابط کا شبہہ تھا۔ ان میں مفرور جنگجو فقیر محمد کے رشتہ دار بھی شامل تھے جنہیں غیر ملکیوں کو پناہ دینے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ | اسی بارے میں باجوڑ: سرکاری اہلکار پر بم حملہ28 September, 2006 | پاکستان باجوڑ دھماکے میں تین افراد زخمی19 September, 2006 | پاکستان باجوڑ: مشتبہ غیر ملکی ہلاک20 April, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کے خلاف مظاہرہ27 January, 2006 | پاکستان باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان باجوڑ ایجنسی میں اٹھارہ ہلاک13 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||