باجوڑ دھماکے میں تین افراد زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں نیم سرکاری ادارے کی ایک گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں دو خواتین کارکنوں سمیت تین آفراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ باجوڑ ایجسنی کی مقامی انتظامیہ نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ یہ دھماکہ اینجسی کے ہیڈکوارٹرز ’خار‘ کے نزدیک منگل کی صبح گیارہ بجے کے قریب سڑک پر پیش آیا۔ حکام کے مطابق ایک نیم سرکاری ادارہ ’نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیولپمینٹ‘ یعنی (این سی ایچ ڈی) کی ایک سوزوکی وین جارہی تھی جس میں دو خواتین کارکن بھی سوار تھیں۔ جب یہ گاڑی خار کے نزدیک پہنچی تو سڑک پر پہلے سے نصب ریموٹ کنٹرول بم اچانک دھماکے سے پھٹ گیا اور گاڑی میں سوار دو خواتین مسماۃ رامیہ اور واسیہ زخمی ہوگئیں جبکہ وہاں پر موجود ایک راہگیر نور اسلام کو بھی شدید چوٹیں آئیں۔ اس سلسلے میں پشاور میں ’این سی ایچ ڈی‘ کے صوبائی ترجمان تیمور احمد شاہ سے رابط کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو لیڈی ریڈ نگ ہسپتال پشاور میں داخل کرادیا گیا ہے جن میں دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کا نشانہ بظاہر ان کی گاڑی نہیں تھی کیونکہ بقول ان کے ’این سی ایچ ڈی‘ کوئی غیر سرکاری تنظیم نہیں ہے اور یہ تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ دھماکے کی ذمہ داری فوری طور پرکسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔ واضع رہے کہ نیم خودمختار قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران سرکاری تنصیبات پر بم اور راکٹ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چند ہفتے قبل ایک امریکی ٹی وی نےاپنی رپورٹ میں اسامہ بن لادن کی باجوڑ میں موجودگی کا انکشاف کیا تھا لیکن پاکستان حکومت نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ | اسی بارے میں قبائلی علاقہ میں سات ہلاک 08.04.2003 | صفحۂ اول وزیرستان:غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن08 January, 2004 | صفحۂ اول ’دھماکہ خیز مواد قران میں چھپا ہوا تھا‘05.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||