| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرستان:غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرحد پر واقع قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں غیرملکی عناصر کی گرفتاری کےلئے فوجی کارروائی کی جا رہی ہے۔ علاقے کے صدر مقام وانا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کی صبح شہر کے مغرب میں اعظم ورسک کے گاؤں کالو شاہ کے قریب شروع کی گئی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق اس علاقے میں غیرملکی افراد کو اپنے آپ کو حکام کے حوالے کرنے کے لئے آٹھ جنوری تک کی مہلت دی گئی تھی جس کے خاتمے پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ وانا میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علی الصبع دس کے قریب فوجی ہیلی کاپٹر اس علاقے کی جانب جاتے دیکھے گئے ہیں۔ اسی علاقے میں سن دو ہزار ایک میں بھی القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے خلاف ایک کارروائی میں پاکستانی فوجیوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کی تیس تاریخ کو گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ نے ایک قبائلی جرگے میں اعلان کیا تھا کہ وہ غیر ملکی جو افغانستان میں جہاد کی غرض سے آئے تھے اور بعد میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بس گئے اور شادیاں کر لی اور جو سرحد پار اتحادی فوجوں پر حملوں میں ملوث نہیں اور وہ خود کو اسلحہ سمیت حکام کے حوالے کر دیں تو انہیں امریکہ نہیں کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی انہیں افراد کے خلاف کی جا رہی ہے جنہوں نے اس رعایت کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ حکام البتہ ایسے افراد کی تعداد نہیں بتا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق علاقے میں دس سے لے کر پچاس تک ایسے افراد ہوسکتے ہیں۔ اس کارروائی کا ہدف حکام کے مطابق مقامی وزیر قبائل کی شاخ یار گل خیل سے تعلق رکھنے والے نیک اور شریف نامی دو افراد بھی ہیں جن پر ایسے افراد کو پناہ دینے کا الزام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں ان کے مکانات بھی مسمار کئے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||