مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | حملے سے متعدد مکانات تباہ ہو گئے تھے |
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام نے صحافیوں کے علاقے میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی ہے۔ باجوڑ میں داخلے کے مقام پر در بند چیک پوسٹ پر حکام نے پشاور سے باجوڑ جانے والے صحافیوں کو روک لیا ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ علاقے میں صحافیوں کے جانے پر پابندی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید بھی ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں منگل کی صبح سے حکام نے در بند چیک پوسٹ پر روک رکھا ہے۔ ہارون رشید کے مطابق صحافیوں نے حکام کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا اور اسے آزادی صحافت پر قدغن قرار دیتے ہوئے چیک پوسٹ کے باہر ایک مظاہرہ بھی کیا ہے تاہم حکام نے ابھی تک کسی صحافی کو باجوڑ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ ادھر صوبہ سرحد کی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سمیت کچھ عہدیداران کو بھی مہمند ایجنسی کے مقام پر روک لیا گیا ہے۔ یہ سیاسی رہنما بھی باجوڑ جانا چاہتے تھے مگر ان کو بتایا گیا ہے کہ پولیٹیکل انتظامیہ نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور صحافیوں کے باجوڑ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ واضح رہے کہ باجوڑ میں گذشتہ جمعہ کو مبینہ امریکی طیارے سے داغے گئے میزائل سے ڈمہ ڈولا گاؤں کے اٹھارہ رہائشی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں مارے گئے تھے۔ حکومت پاکستان نے امریکی حکومت سے اس واقعے پر احتجاج کیا تھا۔ تاہم امریکی حکومتی عہدیداران کے مطابق یہ حملہ ان اطلاعات کی روشنی میں کیا گیا تھا جن کے مطابق ڈمہ ڈولا میں القاعدہ کے اہم رہنما اور اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری موجود تھے۔ تاہم پاکستانی حکام کے مطابق ڈمہ ڈولا میں ایمن الزواہری کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
|